ایران جنگ بندی کے حق میں نہیں، جنگ کا خاتمہ ضروری ہے: عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی صرف جنگ بندی سے ختم نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے مکمل اور مستقل خاتمے کی ضرورت ہے۔
عباس عراقچی نے جاپانی خبر رساں ادارے ’کیوڈو نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران اس جنگ کو اپنی جنگ نہیں سمجھتا بلکہ اس کے مطابق یہ ایک مسلط کردہ تنازع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھا تو اسی دوران حملہ کیا گیا۔ عباس عراقچی نے اسے کھلی جارحیت قرار دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق یہ کارروائی غیر قانونی، بلا جواز اور بغیر کسی اشتعال کے کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی موجودہ کارروائیاں صرف اپنے دفاع کے لیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران جب تک ضروری ہوا اور جتنا ضروری ہوا اپنے دفاع کا حق استعمال کرتا رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران فوری جنگ بندی کو قبول کرنے کے حق میں نہیں ہے کیونکہ اس سے ماضی جیسی صورتحال دوبارہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ان کے ملک کا مؤقف یہ ہے کہ جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ایسے ٹھوس یقین دہانیاں بھی ہونی چاہئیں کہ مستقبل میں اس طرح کے حالات دوبارہ پیدا نہ ہوں۔












