سوری! سارا تیل پہلے ہی فروخت ہو چکا: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ کا امریکا پر طنز

ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کی جانب سے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کے حوالے سے طنزیہ انداز اپنایا۔
شائع 21 مارچ 2026 11:09pm

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمندر میں پھنسے ایرانی تیل سے پابندی ہٹارہے ہو، سوری! ایران کا سارا تیل پہلے ہی فروخت ہو چکا ہے۔

ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کی جانب سے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کے حوالے سے طنزیہ انداز اپنایا۔

محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کے سمندر میں پھنسے ہوئے تیل کے معاملے پر پابندی ہٹائی جا رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کا سارا تیل پہلے ہی مارکیٹ میں فروخت ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام ایران کی معیشت پر اثرانداز ہونے کے بجائے محض ایک ظاہری کوشش ہے۔ ایران میں یہ بیان وسیع بحث کا باعث بن رہا ہے اور سیاسی حلقوں میں اس پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا نے عارضی طور پر ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دے دی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئے لائسنس کے تحت جہازوں پر لوڈ تیل کی فروخت کی اجازت ہوگی، نیا لائسنس 19 اپریل تک فعال رہے گا۔

ایران نے امریکی اقدام کو قیمتوں میں کمی کا ”نفسیاتی حربہ“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے ختم ہونے کی بات صرف خریداروں کو امید دلانے کے لیے ہے اور عالمی منڈی میں فروخت کے لیے کوئی تیل موجود نہیں۔

خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور آئل ریفائنریز پر جوابی حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔