ایران کے اسرائیلی شہر دیمونا کے بعد عراد پر بھی حملے، 100 سے زائد افراد زخمی
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، ایران نے اسرائیل کے حساس ایٹمی مرکز دیمونا پر حملوں کے بعد عراد میں بھی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی اور املاک کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران نے اسرائیل کے جنوبی شہروں عراد، دیمونا اور وسطی علاقوں پر کلسٹر وار ہیڈ والے میزائلوں سے حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق دیمونا پر ہونے والے حملے میں 51 افراد زخمی ہوئے جبکہ 3 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور ایک عمارت منہدم ہو گئی۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس حملے کو روکنے میں اسرائیل کا دفاعی نظام آئرن ڈوم ناکام رہا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ آئرن ڈوم کی ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب ایرانی حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اسرائیلی شہر عراد کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ برطانوی میڈیا نے حملے میں 5 افراد کی ہلاکت اور 70 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔
اسرائیل نے اعتراف کیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 20 عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے وسطی اسرائیل کے کم از کم 10 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا اور ان حملوں میں کلسٹر وار ہیڈ والے میزائل استعمال کیے گئے، جس سے تباہی کی شدت میں اضافہ ہوا۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ نئی حکمتِ عملی کے تحت کیے گئے یہ حملے امریکا اور اسرائیل کو حیران کر دیں گے، اور آئندہ بھی کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔













