25 کروڑ کی چوری کا مقدمہ: گھریلو ملازمہ بری

شواہد پیش نہ ہونے پر عدالت نے ملزمہ رخسانہ بی بی کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا
شائع 25 مارچ 2026 01:19pm

اسلام آباد کی ایک عدالت نے گھریلو ملازمہ کے خلاف کروڑوں روپے مالیت کی چوری کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے اسے بری کر دیا ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ اسلام آباد ایسٹ رضوان الدین نے ملزمہ رخسانہ بی بی کی بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کیا۔

مقدمے کے مطابق پی ڈبلیو ڈی کی رہائشی خاتون ساجدہ زاہد نے جنوری 2024 میں تھانہ لوئی بھیر میں درخواست دی تھی کہ ان کی گھریلو ملازمہ نے گھر سے نقدی اور غیر ملکی کرنسی چوری کی، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 25 کروڑ روپے بتائی گئی۔

عدالت میں سماعت کے دوران ملزمہ کی جانب سے وکیل حبیب ہنزہلہ پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کی مؤکلہ کو جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے اور وہ بے گناہ ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ کو بارہا مواقع دیے گئے، تاہم وہ اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی قابلِ قبول گواہ پیش نہ کر سکا۔ عدالت کے مطابق شواہد نہ ہونے کے باعث سزا کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔

فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ اتنی بڑی رقم گھر میں رکھنا اور اس کی چابی گھریلو ملازمہ کے حوالے کرنا قابلِ فہم نہیں لگتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ مبینہ چوری سے متعلق کوئی ٹھوس دستاویزی ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا۔

عدالت نے نشاندہی کی کہ اگرچہ مدعیہ نے دعویٰ کیا کہ ہمسایوں نے ملازمہ کو گھر میں داخل ہوتے دیکھا، تاہم ان میں سے کسی کا بیان ریکارڈ پر موجود نہیں۔ تفتیش کے دوران ملزمہ سے صرف 2000 روپے برآمد ہوئے، جن کی بھی کوئی واضح وضاحت سامنے نہیں آئی۔

عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کی کہانی مشکوک ہے اور قانون کے مطابق شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے، لہٰذا مزید کارروائی کو وقت کا ضیاع قرار دیتے ہوئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 249-اے کے تحت رخسانہ بی بی کو مقدمے سے بری کر دیا گیا۔