ایران میں پاکستانی سفارت خانے کے قریب اسرائیل کی شدید بمباری
ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے قریبی علاقوں پر اسرائیل کی جانب سے بمباری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ترکیہ توڈے کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں جمعرات کے روز پاکستان کے سفارت خانے اور پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ کے قریب زور دار دھماکوں نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا، جبکہ ایرانی دارالحکومت مسلسل 27ویں روز بھی شدید فضائی بمباری کی زد میں رہا۔
رپورٹ کے مطابق ان دھماکوں کے باوجود تمام پاکستانی سفارتکار محفوظ رہے۔
تہران میں پاکستانی سفارت خانے اور سفیر مدثر ٹپو کی رہائش گاہ کے قریب دھماکوں کی آوازیں اس وقت سنی گئیں جب شہر کو مسلسل فضائی حملوں کا سامنا تھا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب اسلام آباد، ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے سرگرم شٹل ڈپلومیسی میں مصروف ہے۔
رپورٹ کے مطابق حملہ رات تقریباً 8:00 بجے کیا گیا، تاہم نہ تو پاکستانی سفارت خانے اور نہ ہی سفیر کی رہائش گاہ کو کوئی نقصان پہنچا۔ دوسری جانب دفترِ خارجہ کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، جن میں پیغامات اسلام آباد کے ذریعے ایک دوسرے تک پہنچائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اس عمل کو واضح الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مکالمہ اور سفارتکاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور مصر فعال پسِ پردہ سفارتکاری میں مصروف ہیں، جس میں امریکا کے مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔
ان ممالک کی جانب سے خاموش رابطہ کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور امن کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں، جس کے تحت وہ دونوں فریقین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بروئے کار لا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے حالیہ دنوں میں متعدد اہم رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں، جن میں عباس عراقچی، مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔













