دبئی: ایران کے امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملے، یوکرین کا دفاعی سسٹم تباہ کرنے کا دعویٰ

یوکرینی صدر یو اے ای کے دورے پر ہیں اور دونوں ملکوں کی دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر بات چیت جاری ہے۔
اپ ڈیٹ 28 مارچ 2026 06:55pm

ایران نے متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں امریکی فوج کے ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملوں سمیت یوکرین کے اینٹی ڈرون سسٹم کے ڈپو کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق دبئی میں واقع اس ڈپو کو امریکی افواج کی مدد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دبئی میں دو مقامات پر امریکی فوج کے ٹھکانوں کو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا ہے کہ ایرانی فورسز نے جن دو مقامات کو نشانہ بنایا وہاں 500 سے زیادہ امریکی اہلکاروں نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز حملوں سے بچنے کے لیے پناہ لے رکھی تھی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج ایران کے حملوں اور اپنے اڈوں کی تباہی کے بعد اب دوسرے مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ اور امریکی فوج کے اعلیٰ افسران کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ یہ خطہ امریکی فوجیوں کے لیے قبرستان بن جائے گا اور ان کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی دوسرا چارہ باقی نہیں رہے گا۔

خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایک اور بیان میں دبئی میں امریکی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دبئی میں حملوں کے دوران اس ڈپو کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں یوکرین کے اینٹی ڈرون سسٹمز موجود تھے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حملے کے نتیجے میں گودام مکمل طور پر تباہ ہوگیا، جب کہ موقع پر موجود 21 یوکرینی اہلکاروں کی ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی فضائی اور بحری فورس نے مشترکہ طور پر انجام دی۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی متحدہ عرب امارات کے دورے پر موجود ہیں۔

ہفتے کے روز یوکرینی صدر نے اماراتی ہم منصب شیخ محمد بن زید النہیان سے ابوظہبی میں ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

یوکرین کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں یو اے ای میں موجود یوکرینی فوجی ماہرین کی جانب سے ایرانی ڈرونز کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کو سراہا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے متحدہ عرب امارات اور وسیع خطے کی سکیورٹی صورت حال پر بھی تفصیلی گفتگو کی، جس میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور اس کے عالمی تیل مارکیٹ پر ممکنہ اثرات بھی زیرِ غور آئے۔

بیان کے مطابق دونوں فریقین نے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا، سیکیورٹی اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا۔ واضح رہے کہ یوکرین نے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ بھی دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔