امریکا جلد ایران سے باہر نکل آئے گا: نائب صدر جے ڈی وینس کا عندیہ

صدر ٹرمپ کچھ عرصہ مزید جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں: امریکی نائب صدر کی پوڈکاسٹ میں گفتگو
شائع 28 مارچ 2026 09:40pm

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران جنگ کو طول نہیں دینا چاہتا اور جلد اس سے باہر نکل آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران میں اپنے اہداف حاصل کرلیے ہیں، صدر ٹرمپ کچھ عرصہ مزید جنگ جاری رکھیں گے اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی جلد معمول پر آ جائیں گی۔

امریکی پوڈکاسٹر بینی جانسن کے ساتھ انٹرویو میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کو کچھ عرصہ مزید جاری رکھیں گے تاکہ ایران کی حکومت کو سخت نقصان پہنچایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران میں زیادہ تر فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں لیکن صدر چاہتے ہیں کہ امریکا کو دوبارہ یہ قدم نہ اٹھانا پڑے اسی لیے ہمارا مقصد ایرانی حکومت کو طویل مدت کے لیے کمزور کرنا ہے۔

جے ڈی وینس نے ایران جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ عارضی اضافہ ہے اور جیسے ہی یہ تنازع ختم ہوگا، قیمتیں معمول پر آ جائیں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کہ امریکی انتظامیہ اس جنگ میں طویل مدت تک مصروف رہنے کی خواہاں نہیں ہے۔ ہم اپنے مقاصد پورے ہوتے ہی جنگ سے نکل آئیں گے۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اوراسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ کو ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔

اس جنگ کے نتیجے میں ایران، اسرائیل اور امریکا سمیت لبنان اور خلیجی ممالک میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جب کہ لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ہفتے کے روز ایران نے تازہ حملوں میں متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں امریکی فوج کے ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملوں سمیت یوکرین کے اینٹی ڈرون سسٹم کے ڈپو کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک نے کوششیں تیز کر دی ہی۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ اتوار کے روز دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستان سمیت تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ اتوار کی شام اسلام آباد میں ملاقات کریں گے، اس دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے علاوہ اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوگی۔