اسرائیل کے مختلف شہروں میں نیتن یاہو حکومت کے خلاف مظاہرے، پولیس کا کریک ڈاؤن

اسرائیل کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے نیتن یاہو حکومت کے خلاف احتجاج اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا
اپ ڈیٹ 29 مارچ 2026 12:31am

اسرائیل کے مختلف شہروں میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے فوری طور پر جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب، حیفہ اور یروشلم سمیت ملک کے تقریباً 20 مقامات پر ایران جنگ کے خلاف مظاہرے کیے گئے، جن میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی۔

تل ابیب کے رابن اسکوائر اور حبیمہ اسکوائر میں پولیس نے مظاہرین کو پر تشدد اور طاقت کا استعمال کیا۔ غیر ملکی میڈیا کی موجودگی کے باوجود پولیس نے مظاہروں کو ’غیر قانونی قرار دے کر لاٹھی چارج اور گرفتاریاں کیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے تل ابیب میں ہونے والے مرکزی احتجاج کے دوران کم از کم 13 مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔

یہ مظاہرے سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے ایک گروپ کی جانب سے منعقد کیے گئے، جنہیں سول سوسائٹی کی درجنوں تنظیموں کی حمایت حاصل تھی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر جنگ مخالف نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ نیتن یاہو حکومت اپنی سیاسی بقا کے لیے جنگ کو طول دے رہی ہے اور عوامی تحفظ کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ مظاہروں میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی اور جنگ کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق پولیس نے تل ابیب میں پانچ جبکہ حیفہ میں چھ مظاہرین کو حراست میں لیا جبکہ یروشلم میں وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب جمع ہونے والے سینکڑوں افراد کو بھی منتشر کر دیا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوششوں کے دوران مختلف مقامات پر مظاہرین اور اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں۔

یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ میں شدت آچکی ہے اور ایران کی جانب سے جوابی حملوں کی صورت میں اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نتین یاہو حکومت کو پہلے ہی چیلنجز درپیش تھے تاہم ایران کے بڑھتے ہوئے حملوں سے شہریوں میں خوف کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر کے حوالے سے بھی دعویٰ سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کابینہ کو بتایا تھا اسرائیلی فوج ایران جنگ کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔ اسی بحران کے دوران اسرائیلی حلقوں میں قدامت پسند یہودیوں کو فوج میں بھرتی کرنے کے قانون پر بھی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، جس نے سیکولر اور مذہبی طبقے کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔