امریکا کی ایران کے خلاف مہلک ترین اسٹیلتھ میزائل استعمال کرنے کی تیاری

ایک میزائل کی مالیت تقریباً 15 لاکھ ڈالر (ڈیڑھ ملین ڈالر) ہے، جو اس ہتھیار کی اہمیت اور قیمت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔
اپ ڈیٹ 05 اپريل 2026 11:05am

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر تباہی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’بلومبرگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہونے میں اب صرف 48 گھنٹے باقی ہیں اور امریکی فوج نے اس کے بعد کے مرحلے کے لیے دنیا کے مہلک ترین ’جاسم ای آر‘ (JASSM-ER) اسٹیلتھ کروز میزائلوں کا بڑا ذخیرہ مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ان میزائلوں کو بحر الکاہل کے امریکی اڈوں سے نکال کر سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مراکز اور برطانیہ کی فضائی بیسز پر پہنچایا جا رہا ہے تاکہ ایران کے اندر گہرائی میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔

یہ میزائل اپنی خاص ’اسٹیلتھ‘ ٹیکنالوجی کی وجہ سے دشمن کے ریڈار میں آئے بغیر 600 میل سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے داغنے والا جہاز دشمن کے دفاعی نظام کی زد میں آئے بغیر اپنا کام مکمل کر سکتا ہے۔

ایک جاسم میزائل کی مالیت تقریباً 15 لاکھ ڈالر (ڈیڑھ ملین ڈالر) ہے، جو اس ہتھیار کی اہمیت اور قیمت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکا جنگ کے پہلے چھ دنوں میں ہی ایران پر ایسے 786 میزائل داغ چکا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں تہران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اب صرف 48 گھنٹے باقی ہیں، ورنہ ان پر آفت ٹوٹ پڑے گی۔

اس الٹی میٹم کے ساتھ ہی اسرائیل نے بھی اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔

ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران کی توانائی کی تنصیبات اور بجلی گھروں پر حملے کے لیے تیار ہے اور صرف امریکا کے گرین سگنل کا انتظار کر رہا ہے۔

یہ حملے اگلے ایک ہفتے کے اندر متوقع ہیں جن کا مقصد ایران کی معاشی شہ رگ کو کاٹنا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر جدید ترین ہتھیاروں کا رخ مشرقِ وسطیٰ کی طرف موڑنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ ایران کے خلاف ایک بہت بڑا وار کرنے کی تیاری میں ہے۔

مالیاتی ماہرین کے مطابق اس جنگ نے پہلے ہی دنیا کو توانائی کے بحران میں دھکیل دیا ہے کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو تقریباً بند کر رکھا ہے جہاں سے دنیا کے تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

اب دنیا کی نظریں ان آخری 48 گھنٹوں پر جمی ہیں کہ آیا کوئی سفارتی حل نکل پاتا ہے یا خطہ ایک ایسی آگ کی لپیٹ میں آ جائے گا جس کے اثرات پوری عالمی معیشت پر پڑیں گے۔