سابق رکن کانگریس مارجوری ٹیلر صدر ٹرمپ کے متنازع بیان پر برس پڑیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایسٹر کے موقع پر سوشل میڈیا بیان نے نئی بحث چھیڑ دی، جس پر ردعمل دیتے ہوئے سابق رکن کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے نہ صرف صدر کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ ان کی پالیسیوں کو ’’خطرناک‘‘ قرار دے دیا۔
مارجوری ٹیلر گرین نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ ایسٹر جیسے مذہبی موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات مسیحی تعلیمات کے برعکس ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ میں شامل وہ افراد جو خود کو مسیحی کہتے ہیں، انہیں خدا سے معافی مانگنی چاہیے اور صدر کی پالیسیوں کی اندھی حمایت ترک کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا صدر مسیحی نہیں ہے اور نہ ہی اس کے الفاظ اور اقدامات مسیحی اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق مسیحت امن، محبت اور درگزر کا درس دیتی ہے، جبکہ موجودہ پالیسیوں سے جنگ اور نفرت کو فروغ مل رہا ہے۔
ایران سے متعلق صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایک بڑے تنازع کا نتیجہ ہے، اور ان کے بقول یہ کشیدگی امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی کارروائیوں کے باعث بڑھی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران کی حمایت نہیں کر رہیں بلکہ صورتحال کو “حقیقت کے مطابق” دیکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنی دفاعی صلاحیت رکھتا ہے اور امریکا کو جنگ میں براہِ راست مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
مارجوری ٹیلر گرین نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں عام ایرانی شہریوں کو نقصان پہنچائیں گی، جنہیں بظاہر آزاد کرانے کی بات کی جا رہی ہے۔
انہوں نے ایسٹر کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن مسیحیوں کو محبت، معافی اور امن کا درس دیتا ہے، اور حکومت کو بھی اسی راستے پر چلنا چاہیے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ امریکی عوام نے 2024 کے انتخابات میں جس وعدے پر ووٹ دیا تھا، موجودہ پالیسیاں اس کے برعکس ہیں، اور یہ “امریکا کو عظیم بنانے” کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔












