ایران کے جزیرے خارگ میں دھماکے
ایران کے اہم جزیرے خارگ میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جب کہ غیرملکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی طیاروں نے جزیرے پر بمباری کی ہے تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کے روز ایران کے جزیرے خارگ میں زور دار دھماکے سنے گئے ہیں، جن کے بعد علاقے میں صورت حال کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی طیاروں نے جزیرے کو نشانہ بنایا اور حملوں کے دوران اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق مبینہ حملے میں جزیرہ خارگ کی جیٹی بھی تباہ ہوگئی ہے تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
جزیرہ خارگ کو ایرانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، جہاں سے ملک کے تقریباً 90 فیصد تیل کی ترسیل کی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ ایران کا جزیرہ ’خارگ‘ خلیج فارس کے شمالی حصے میں واقع ایک انتہائی اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل جزیرہ ہے، جو ایران کی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے اب تک ایران کے شہروں تک حملے محدود رکھے ہوئے تھے پھر اس جزیرے کو بھی نشانے پر رکھ لیا اور اب اس جزیرے پر قبضے کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔
خارگ جزیرے کو ایران میں ’ممنوعہ جزیرہ‘ کہا جاتا ہے اور جغرافیائی طور پر یہ ایران کے صوبے بوشہر کے زیرِ انتظام ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی سخت سیکیورٹی کے باعث یہاں صرف خصوصی سرکاری اجازت کے حامل افراد کو ہی داخلہ دیا جاتا ہے۔ یہ جزیرہ بظاہر سمندر میں زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے مگر ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔
جزیرہ ’خارگ‘ ایران جنگ کے پندرہویں روز یعنی 14 مارچ کی صبح اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی فضائیہ نے اس جزیرے پر واقع ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی سب سے طاقتور بمباری قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ فی الحال جزیرے پر موجود تیل کی تنصیبات کو تباہ نہیں کیا گیا تاہم انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالی تو وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کریں گے۔
اس دھمکی کے جواب میں ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ ایرانی فوج خبردار کرچکی ہے کہ اگر خارگ پر حملہ یا قبضے کی کوشش کی گئی تو امریکا اور اسکے اتحادیوں کی ملکیت تیل اور توانائی کمپنیوں کو تباہ اور راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
امریکی میڈیا پہلے بھی رپورٹ کرچکا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی میں خارگ جزیرے پر قبضہ یا فوجیں اتارنے کا آپشن بھی زیرِ غور آیا تھا۔ جنگ کے چوتھے ہفتے ایک بار پھر اس جزیرے پر قبضے کی امریکی کوششوں کی بازگشت شروع ہوچکی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں میڈیا کو بریفنگ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت اور دھمکی آمیز بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو ایک رات میں ہی ختم کیا جا سکتا ہے اور وہ رات منگل کی رات بھی ہوسکتی ہے۔
امریکی صدر کی ڈیڈلائن ختم ہونے سے 12 گھنٹے پہلے ایران کے اہم جزیرے خارگ پر بڑا حملہ ہوا ہے، جہاں شدید بمباری کے باعث جزیرے سے دھوئیں کے بادل اٹھنے لگے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے خارگ میں ایرانی فوجی تنصیاب کو نشانہ بنایا گیا، جزیرہ خارگ ایرانی تیل کی 90 فیصد ترسیل کا ذریعہ ہے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کی ڈیڈلائن پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح 5 بجے تک کی تھی۔














