مشرق وسطیٰ کی 40 روزہ جنگ میں اب تک کتنا جانی و مالی نقصان ہوا؟
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے نہ صرف پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں ہزاروں جانیں ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ خطے کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ تک سامنے آنے والے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، تاہم مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اس جنگ کی شدت اور پھیلاؤ کو واضح کر رہی ہیں۔
ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم ’ہرانا‘ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 3 ہزار 636 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے کم از کم 1 ہزار 900 اموات کی تصدیق کی ہے۔
لبنان میں 2 مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں 1 ہزار 530 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 129 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے تین امن اہلکار بھی مختلف واقعات میں مارے گئے۔
عراق میں کم از کم 117 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیل میں ایران اور لبنان سے داغے گئے میزائل حملوں میں 23 افراد مارے گئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں اس کے 11 اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکا کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 13 امریکی فوجی ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ متحدہ عرب امارات میں 13 افراد جان سے گئے۔ قطر میں ہیلی کاپٹر حادثے میں 7 افراد، اور کویت میں بھی 7 اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔
دیگر علاقوں میں مغربی کنارے میں 4 فلسطینی خواتین، شام کے شہر سویدا میں 4 افراد، جبکہ بحرین، عمان اور سعودی عرب میں بھی مختلف حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ فرانس کا ایک فوجی بھی شمالی عراق میں ڈرون حملے میں مارا گیا۔
انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ اس جنگ نے خطے کی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ سنٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکی آپریشن کے ابتدائی 100 گھنٹوں پر ہی تقریباً 3.7 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جو اوسطاً 891 ملین ڈالر یومیہ بنتے ہیں۔
ایرانی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو تقریباً 800 ملین ڈالر کا نقصان پہنچا، جبکہ مجموعی طور پر ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی مہم کے اخراجات 25 سے 30 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق خطے کے 9 ممالک میں کم از کم 40 توانائی کے اثاثے شدید متاثر ہوئے، جبکہ ایرانی جوابی حملوں سے خلیجی ممالک کی آئل ریفائننگ صلاحیت کو 30 سے 40 فیصد تک نقصان پہنچا، جس سے عالمی منڈی میں روزانہ 11 ملین بیرل تیل کی کمی واقع ہوئی۔
ماہرین کے مطابق تباہ شدہ توانائی کے ڈھانچے کی بحالی پر کم از کم 25 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بھی بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
سیاحت کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کے مطابق جنگ کے پہلے 20 دنوں میں ہی سیاحت کی آمدنی میں 12 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 600 ملین ڈالر کے اخراجات متاثر ہو رہے ہیں۔
تنازع کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں 3 ہزار 400 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ صرف دبئی میں پہلے ہفتے کے دوران 80 ہزار سے زائد ہوٹل بکنگز منسوخ کی گئیں، جس سے ہوٹل انڈسٹری کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو سیاحت میں 27 فیصد کمی آ سکتی ہے، جس سے 38 ملین سیاح کم آئیں گے اور تقریباً 56 ارب ڈالر تک کا مزید نقصان ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 2026 میں مشرق وسطیٰ کو سیاحت سے 200 ارب ڈالر سے زائد آمدنی کی توقع تھی، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ ہدف خطرے میں پڑ گیا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف جانی نقصان میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور خطے کے استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔














