لبنان پر اسرائیلی حملوں میں تیزی، بیروت میں خوف اور تباہی
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنے آپریشنز کا دائرہ وسیع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ حملوں میں سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں اور بیروت میں شہری خوف و ہراس کا شکار ہیں۔اسرائیلی عسکری حکام کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ان کی افواج نے جنوبی لبنان کے نئے علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے وہاں اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔
اس کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے درجنوں ارکان کو ہلاک کرنے اور بھاری مقدار میں اسلحہ، بارود اور دھماکا خیز مواد قبضے میں لینے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
دوسری جانب بیروت سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لبنانی دارالحکومت میں شدید افراتفری اور تباہی کا منظر ہے جہاں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کیے گئے حملوں نے عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
بیروت سے رپورٹنگ کرتے ہوئے صحافی زینہ خضر کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اس وقت انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔
ان کے مطابق حزب اللہ نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں جنگ کا آغاز کیا تھا، لیکن اب وہ ان حملوں کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف دفاع قرار دے رہی ہے۔
حزب اللہ کا اصرار ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بندی میں لبنان کا محاذ بھی شامل ہونا چاہیے، تاہم اسرائیل اور امریکا اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔
اسرائیل ان حملوں کے ذریعے یہ پیغام دے رہا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف اس کی جنگ فی الحال ختم نہیں ہوگی۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق ان حملوں میں اب تک کم از کم 182 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں جن کی وجہ سے اسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
زینہ خضر کا کہنا ہے کہ لبنانی عوام اس وقت شدید صدمے اور بے یقینی کی کیفیت میں ہیں کیونکہ اب انہیں کوئی بھی جگہ محفوظ محسوس نہیں ہو رہی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ کی موجودگی کے بہانے سویلین علاقوں کو نشانہ بنانا مزید جانی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
لبنانی عوام میں یہ خوف گھر کر چکا ہے کہ اسرائیل بغیر کسی خوف کے یہ کارروائیاں جاری رکھے گا اور یہ سلسلہ جلد تھمنے والا نہیں ہے۔













