امریکا منجمد اثاثے بحال کرنے پر راضی، ایران کا دعویٰ: واشنگٹن کی تردید

امریکی حکام نے فوری طور پر اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ردِ عمل دیا کہ کوئی معاہدہ تسلیم نہیں کیا گیا۔
اپ ڈیٹ 11 اپريل 2026 06:00pm

ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے 6 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم امریکی حکام نے فوری طور پر اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کسی بھی معاہدے کی تردید کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے ایران کے غیر ملکی بینکوں میں موجود اثاثے بحال کرنے سے متعلق چلنے والی خبروں کی تردید کی ہے۔

ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے دوران سامنے آئی اور اسے واشنگٹن کی سنجیدگی کی علامت قرار دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ مطالبہ ایران کی جانب سے امریکا کو بھیجے گئے پیغامات میں شامل تھا اور تہران کو اس پر مثبت جواب موصول ہوا۔

رائٹرز کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ایرانی ذرائع نے کہا کہ ان اثاثوں کی بحالی کا تعلق آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے سے بھی ہے، جو مذاکرات کا ایک اہم نکتہ ہے۔

ایک دوسرے ایرانی ذرائع کے مطابق امریکا نے قطر میں موجود تقریباً 6 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی فنڈز جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس حوالے سے امریکی مؤقف اس کے برعکس ہے اور کسی بھی پیش رفت کی تصدیق نہیں کی گئی۔ قطر کی وزارت خارجہ نے بھی اس پر فوری کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

منجمد ایرانی فنڈز کا پس منظر

رائٹرز کے مطابق یہ 6 ارب ڈالر دراصل 2018 میں منجمد کیے گئے تھے اور 2023 میں امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت جاری ہونا تھے، تاہم 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملوں کے بعد، جن کا الزام ایران کے اتحادی فلسطینی گروپ حماس پر عائد کیا گیا، صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ان فنڈز کو دوبارہ منجمد کر دیا تھا۔

اس وقت امریکی حکام نے کہا تھا کہ ایران کو مستقبل قریب میں اس رقم تک رسائی حاصل نہیں ہوگی اور واشنگٹن کے پاس اس اکاؤنٹ کو مکمل طور پر منجمد رکھنے کا اختیار موجود ہے۔

یہ فنڈز جنوبی کوریا کو ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہوئے تھے، جنہیں 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے اور جوہری معاہدہ ختم کرنے کے بعد جنوبی کوریا کے بینکوں میں روک دیا گیا تھا۔

ستمبر 2023 میں دوحہ کی ثالثی میں ہونے والے امریکا-ایران قیدیوں کے تبادلے کے تحت یہ رقم قطری بینکوں میں منتقل کی گئی تھی۔ اس معاہدے کے تحت ایران میں قید پانچ امریکی شہریوں کی رہائی کے بدلے امریکا میں قید پانچ ایرانیوں کو رہا کیا گیا اور فنڈز کی منتقلی عمل میں آئی۔

امریکی حکام کے مطابق اس رقم کے استعمال کو صرف انسانی ہمدردی کے مقاصد تک محدود رکھا گیا تھا، جس کے تحت خوراک، ادویات، طبی آلات اور زرعی اشیاء کی خریداری کے لیے منظور شدہ سپلائرز کو ادائیگی کی جانی تھی اور یہ عمل امریکی محکمہ خزانہ کی نگرانی میں ہونا تھا۔