تیل کے حصول کے لیے آئل ٹینکرز اب امریکا کا رُخ کر رہے ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ

امریکا کے پاس دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے مجموعی ذخائر سے بھی زیادہ تیل موجود ہے: امریکی صدر
اپ ڈیٹ 11 اپريل 2026 05:29pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بڑی تعداد میں خالی آئل ٹینکرز امریکا کی جانب رواں دواں ہیں تاکہ وہاں سے تیل اور گیس حاصل کی جا سکے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’دنیا کے سب سے بڑے ٹینکرز (بحری جہاز) اعلیٰ معیار کے تیل اور گیس کے حصول کے لیے امریکا کی طرف رواں دواں ہیں‘۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس، تیل کے ذخائر کے حوالے سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے مجموعی ذخائر سے بھی زیادہ تیل موجود ہے اور ان کا معیار بھی بہتر ہے۔

ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’ہم آپ کے منتظر ہیں، یہ لوڈنگ تیز رفتار ہوگی‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان میں مذاکرات جاری ہیں۔

دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہے، کیوں کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے براہِ راست اثرات دنیا بھر کی مارکیٹوں خصوصاً تیل کی عالمی منڈی پر مرتب ہوئے ہیں۔

امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں سب سے اہم نکتہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمد و رفت پر عائد پابندی ختم کروانا ہے، جو صرف امریکا کا ہی نہیں بلکہ یورپ سمیت مختلف ممالک کا سب سے اہم مطالبہ ہے۔

واضح رہے کہ ایران جنگ کے آغاز سے ہی تیل کی عالمی منڈی میں بے یقینی کی کیفیت ہے اور قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس بیان کا کوئی واضح پسِ منظر بیان نہیں کیا، تاہم ماہرین کے مطابق اسٹریٹجک لحاظ سے اس کا بنیادی مقصد عالمی مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کو یہ تسلی دینا ہے کہ امریکی معیشت مضبوط ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بیان کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر اسلام آباد میں جاری مذاکرات کسی وجہ سے ناکام بھی ہو جاتے ہیں، تو بھی عالمی مارکیٹ کے لیے متبادل کے طور پر امریکی تیل دستیاب رہے گا اور سپلائی کے نظام کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔