آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں کچھ دیر باقی، بحالی کے لیے برطانیہ اور فرانس متحرک

40 ممالک اجلاس میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی حفاظت کے مربوط پلان پربات ہوگی: کیئر اسٹارمر
اپ ڈیٹ 13 اپريل 2026 06:23pm

امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں اب کچھ دیر باقی ہے اور اس اہم سمندری گزرگاہ کی بحالی کے لیے برطانیہ اور فرانس نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ 40 ممالک اجلاس میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی حفاظت کے مربوط پلان پر بات ہوگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال پر ایک اہم میڈیا بریفنگ کے دوران اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی تو برقرار ہے لیکن امریکا اب ایران کی معاشی ناکہ بندی کے لیے سخت ترین اقدامات کرنے جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ایران کی فوجی اور بحری طاقت کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی بحریہ کے 158 جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں اور اب امریکا آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ ایران اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں نہ بیچ سکے۔

امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے عمل میں اب کچھ ہی دیر باقی ہے، پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے سے ناکہ بندی شروع ہوجائے گی اور کسی بھی ایرانی جہاز کو آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے نہیں دیا جائے گا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ ایران کو ٹول کی ادائیگی کرنے والے جہازوں کو بھی بندش کا سامنا کرنا ہوگا، ناکہ بندی کا نفاذ خلیج اور بحیرہ عمان میں بھی ایرانی بندرگاہوں پر ہوگا تاہم دیگر جہازوں کی آمد ورفت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔

دوسری طرف برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تجارت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس اہم سمندری راستے کو کھولنے اور جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے کے لیے 40 سے زائد ممالک کو اکٹھا کیا گیا ہے جو اس مقصد میں شریک ہیں۔

کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ برطانیہ اور فرانس رواں ہفتے ایک مشترکہ سربراہی اجلاس کی میزبانی کریں گے، جس میں تنازع کے خاتمے کے بعد عالمی بحری جہازرانی کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ کسی بھی دباؤ کے باوجود ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوگا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی حمایت کرے گا۔

کیئر اسٹارمر نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے برطانیہ کی تمام تر توجہ اس اہم گزرگاہ کو کھولنے پر مرکوز ہے اور آئندہ بھی یہی کوششیں جاری رہیں گی۔ اسٹارمر کے مطابق خطے میں برطانوی بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز موجود ہیں، تاہم انہوں نے آپریشنل تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے لیکن وہ صرف اسی صورت میں کوئی قدم اٹھائیں گے جب اس کے لیے واضح قانونی بنیاد اور مکمل منصوبہ موجود ہو۔

’آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی پر یورپین یونین کا ردعمل

ادھر یورپی یونین نے آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی پر ردعمل دیتے ہوئے اس اہم سمندری گزرگاہ کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ سمندری راستوں کی بندش کو عالمی معیشت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

صدر یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تجارت اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب کر رہی ہے، اس لیے اسے فوری طور پر بحال کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اہم سمندری راستوں کی بندش سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے جس کے باعث دنیا بھر میں معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

صدر یورپی کمیشن کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے بغیر صورت حال بہتر نہیں ہو سکتی، انہوں نے لبنان پر جاری بمباری پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق جب تک لبنان پر بمباری جاری رہے گی، خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا، اس لیے فوری جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والے تمام بحری جہازوں کی ناکہ بندی کرے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ اقدام پیر کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے سے نافذ ہوگا اور اس کا اطلاق تمام ممالک کے جہازوں پر ہوگا۔