آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی کے باوجود مذاکرات کی امید میں تیل سستا
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی فوج نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کردی ہے، جس پر تہران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال بھی بڑھ گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کی جانب سے اس ناکہ بندی کے آغاز نے نہ صرف ایران کو طیش دلا دیا ہے بلکہ آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
تاہم جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ مذاکرات کی امید پر عالمی تیل کی منڈی میں قدرے بہتری دیکھی گئی، جہاں منگل کے روز تیل کی عالمی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات ناکام ہوگئے تھے، تاہم ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی تصدیق کی کہ تنازع کے حل کے لیے کوششیں بدستور جاری ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے پیر کے روز رابطہ کیا اور معاہدہ کرنے کی خواہش ظاہر کی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا جس کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت ہو۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد ایران نے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز کو تمام غیر ملکی جہازوں خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کے لیے بند کردیا تھا۔
ایران کا کہنا تھا کہ گزرگاہ صرف اس کی نگرانی میں اور فیس کی ادائیگی پر ہی استعمال کی جاسکے گی۔
اس صورتحال کے عالمی سطح پر بڑے اثرات مرتب ہوئے کیونکہ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا ایرانی جہازوں اور ایسے کسی بھی جہاز کو روک دے گا جو ایران کو ٹول ادا کرے گا، جبکہ انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی تیز رفتار حملہ آور کشتیوں کو ناکہ بندی کے قریب آنے پر تباہ کردیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے گی۔













