پاکستان میں ایرانی ریال کی مانگ میں اضافہ کیوں، خریدنے سے پہلے کیا احتیاط ضروری ہے؟
پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں ان دنوں ایک نیا رجحان دیکھا جارہا ہے، شہری حیران کُن طور پر ڈالر یا دیگر کرنسیوں کے بجائے ایرانی کرنسی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ایرانی ریال جو 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ سے پہلے مارکیٹ میں اپنی قدر کھو چکا تھا، اب اچانک پاکستانیوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنگ سے پہلے ایک کروڑ ایرانی ریال محض 2500 پاکستانی روپے میں مل جاتے تھے، لیکن اب وہی ایک کروڑ ریال 10 ہزار روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ یعنی ایرانی ریال کی قیمت میں چار گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر پاکستانی ایرانی ریال کیوں خرید رہے ہیں؟
اس کی پہلی اور بڑی وجہ وہ سرمایہ کار ہیں جو مستقبل میں ایرانی کرنسی کی قدر میں اضافے سے بھاری منافع کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان اس صورتِ حال کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مارکیٹ میں اس وقت دو طرح کے خریدار موجود ہیں۔ ایک وہ تاجر ہیں جن کے سامان کی لین دین کا حجم بڑھ گیا ہے اور دوسرے وہ پُرجوش سرمایہ کار ہیں جو یہ توقع کر رہے ہیں کہ مستقبل میں ایرانی ریال کی قیمتیں مزید بڑھنے سے وہ بڑا منافع کما سکیں گے۔
ملک بوستان نے مقامی انگریزی ویب سائٹ ’ڈان‘ سے گفتگو میں کہا کہ ان سرمایہ کاروں کا ماننا ہے اگر امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں یا پابندیوں میں نرمی آتی ہے، تو ایرانی ریال کی قدر میں زبردست اضافہ ہوگا، اسی لیے وہ ابھی سے ایرانی کرنسی ذخیرہ کر رہے ہیں۔
دوسری اہم وجہ سرحد پار تجارت میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ ہے، خاص طور پر پیٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خور ونوش کی لین دین اب ایرانی ریال میں زیادہ ہو رہی ہے۔
ملک بوستان کے مطابق برآمد کنندگان ایرانی مارکیٹ میں برآمد کردہ مال کے بدلے اب ایرانی ریال قبول کر رہے ہیں اور پھر اسے مقامی مارکیٹ میں فروخت کر دیتے ہیں، جبکہ درآمد کنندگان ایران سے سامان منگوانے کے لیے ریال خرید رہے ہیں۔
اس کے علاوہ میڈیا رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایران اپنی تیل کی فروخت میں 30 فیصد تک اضافہ کرنے میں کامیاب رہا ہے، جس نے خریداروں کے اس اعتماد کو مزید پختہ کیا ہے کہ مستقل امن کی صورت میں ایرانی معیشت اور کرنسی دونوں مضبوط ہوں گے۔
اگرچہ سرکاری دستاویزات میں پاک ایران تجارت کا حجم ہمیشہ واضح نہیں ہوتا، لیکن ماہرین اس کا تخمینہ لگ بھگ تین ارب ڈالر کے قریب بتاتے ہیں۔
یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ 2028 تک پاک ایران تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک جاسکتا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی حالیہ بین الوزارتی اجلاس میں ایران کے ساتھ ترجیحی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ تاہم جہاں ایک طرف جہاں ممکنہ مذاکرات کی کامیابی اور باہمی تجارت سے امیدیں وابستہ ہیں، وہیں ماہرین ایرانی کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو خبردار بھی کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی ریال کی مانگ میں یہ تیزی کسی مضبوط معاشی بنیاد کے بجائے زیادہ تر قیاس آرائیوں اور جنگی حالات کی غیر یقینی صورتِ حال پر مبنی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں جاری جنگ مستقل طور پر ختم نہ ہونے تک ایرانی ریال کا مستقبل غیر یقینی رہے گا، اس لیے عام آدمی کو ایسی کرنسی کی خرید و فروخت میں احتیاط برتنی چاہیے جس کی قیمت پلک جھپکتے ہی بدل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ غیر پیشہ ور سرمایہ کاروں کو جعلی ایرانی کرنسی بھی دیے جانے کا خدشہ ہے۔
ان سب کے باوجود اگر آپ ایرانی کرنسی خریدنا چاہتے ہیں تو لازمی ہے کہ پہلے اس روز کے ایکسچینج ریٹ جان لیں۔
منگل، 14 اپریل 2026 کو کرنسی مارکیٹ میں ایک پاکستانی روپے کے بدلے 5 ہزار680 ایرانی ریال مل رہے ہیں۔ یہ گزشتہ روز کے مقابلے میں 40 ایرانی ریال (0.70 فیصد) کی کمی ہے۔ پیر کو ایک پاکستانی روپیہ 5 ہزار 720 ایرانی ریال میں فروخت ہو رہا تھا۔















