پاکستان کے لیے دو ارب ڈالرز کی قسط، آئی ایم ایف نے 11 نئی شرائط عائد کردیں
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری کو نئی شرائط سے مشروط کر دیا ہے، جن پر حکومت نے اصولی طور پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے مزید 11 نئی شرائط عائد کی گئی ہیں جس کے بعد مجموعی شرائط کی تعداد 75 تک پہنچ گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی شرائط کے تحت پیپرا رولز میں اہم ترامیم کی جائیں گی اور سرکاری اداروں کی جانب سے اربوں روپے کے ٹھیکے بغیر مقابلے کے دینے کی روایت کو ختم کیا جائے گا۔ اس حوالے سے قوانین میں تبدیلیاں ستمبر 2026 تک مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات بھی پروگرام کا اہم حصہ ہیں، جن کے تحت جولائی 2026 سے گیس کی قیمتوں میں ہر چھ ماہ بعد ردوبدل کیا جائے گا جبکہ جنوری 2027 سے بجلی کے نرخ سالانہ بنیادوں پر ایڈجسٹ ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق مالی سال 2026-27 میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
مزید برآں نئے اسٹرکچرل بینچ مارکس کے تحت حکومت نے خصوصی اقتصادی زونز اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز سے متعلق قوانین میں ترامیم پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کے نتیجے میں ان زونز کو دی جانے والی مالی مراعات مرحلہ وار ختم کر دی جائیں گی۔
ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر میں آڈٹ کیسز کے انتخاب کے لیے مرکزی نظام متعارف کرایا جائے گا جبکہ نیب آرڈیننس میں بھی ترامیم کی جائیں گی۔
فنانس بل 2026 کے تحت منافع پر مبنی سہولیات کو لاگت پر مبنی نظام میں تبدیل کیا جائے گا اور تمام مالی مراعات کو 2035 تک مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت دی جانے والی مراعات بھی 2035 تک ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تمام اقدامات آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں اور ان پر عملدرآمد آئندہ قسط کے کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے سنہ 2026 کے پہلے دو ماہ کے دوران آئی ایم ایف کو 8 کروڑ 19 لاکھ 30 ہزار ڈالر ادا کیے ہیں۔ جنوری اور فروری 2026 کی یہ ادائیگیاں 5 کروڑ 96 لاکھ 66 ہزار 666 ایس ڈی آر (اسپیشل ڈرائنگ رائٹس) کے برابر رہیں۔
سال 2026 میں اب تک کی جانے والی ان محدود ادائیگیوں کے باوجود، گزشتہ کئی برسوں کے دوران لیے گئے متعدد قرضوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے لیے پاکستان کے مجموعی واجبات اب بھی کافی زیادہ ہیں۔
پاکستان نے ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نمٹنے اور معاشی استحکام کے لیے آئی ایم ایف کے کئی بڑے پروگراموں بشمول اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) اور توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) سے فائدہ اٹھایا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان نے سنہ 2008 سے اب تک آئی ایم ایف کے مختلف پروگراموں کے تحت 11 ارب ایس ڈی آر سے زیادہ کی رقم واپس کی ہے۔ اس میں سنہ 2008 کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ، 2013 کی توسیعی فنڈ سہولت اور سنہ 2019 کے بعد معاشی جھٹکوں (بشمول کورونا وبا کے اثرات) سے نمٹنے کے لیے شروع کیے گئے حالیہ پروگراموں کے تحت کی جانے والی اہم ادائیگیاں شامل ہیں۔
صرف سنہ 2008 کے پروگرام (ایس بی اے) کے تحت کی جانے والی ادائیگیاں 4 ارب 93 کروڑ ایس ڈی آر سے زیادہ ہیں، جبکہ سنہ 2013 کے پروگرام (ای ایف ایف) کے تحت ادائیگیاں 4 ارب 32 کروڑ ایس ڈی آر سے تجاوز کر گئی ہیں۔
یہ اعداد و شمار ماضی میں لیے گئے قرضوں کی وسعت اور ان کی واپسی کے حوالے سے پاکستان کے بڑے وعدوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
مزید برآں، حال ہی میں حاصل کی گئی سہولیات جیسے کہ ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) اور دیگر ہنگامی امدادی پروگراموں کے عوض بھی ادائیگیاں جاری ہیں۔ ان واجبات کی واپسی کئی سالوں پر محیط ہے، جس کی وجہ سے ادائیگیوں کا ایک مرحلہ وار شیڈول ترتیب دیا گیا ہے۔
اگرچہ سنہ 2026 کے آغاز میں ادائیگیوں کا بوجھ قابو میں دکھائی دیتا ہے، تاہم آئی ایم ایف کے مجموعی قرضے درمیانی مدت کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔
مستقل مالیاتی نظم و ضبط، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور بیرونی زرِ مبادلہ میں بہتری وہ اہم عوامل ہیں جو اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کے بیرونی شعبے پر غیر ضروری دباؤ ڈالے بغیر مستقبل کی ادائیگیاں بروقت کی جا سکیں۔















