ایران سے مسلح کشیدگی ختم، جنگ کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں: ٹرمپ کا امریکی کانگریس کو خط
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریسی رہنماؤں کو لکھے گئے ایک خط میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی اب ختم ہو چکی ہے، لہٰذا جنگ کے تسلسل کے لیے مقننہ سے اجازت لینے کی قانونی مدت اب ان پر لاگو نہیں ہوتی۔
جمعہ کے روز بھیجے گئے اس خط میں صدر ٹرمپ نے موقف اپنایا کہ چونکہ 7 اپریل 2026 سے اب تک سیز فائر جاری ہے اور ایران کے ساتھ فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا، اس لیے 28 فروری کو شروع ہونے والی دشمنی اب ختم ہو چکی ہے۔
یہ خط ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کو 60 دن مکمل ہو چکے ہیں اور ’وار پاورز ایکٹ 1973‘ کے تحت صدر کے لیے 60 دن کے اندر کانگریس سے منظوری لینا لازمی تھا۔
صدر ٹرمپ نے ایوان کے اسپیکر مائیک جانسن اور سینیٹر چک گراسلے کو لکھے گئے خط میں کہا کہ انہوں نے امریکی مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ’آپریشن ایپک فیوری‘ شروع کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وار پاورز ایکٹ کو مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں کانگریس سے اس فوجی مہم کی منظوری لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ پہلے کبھی کسی نے ایسی اجازت نہیں مانگی، تو ہم کیوں الگ ہوں؟
انہوں نے مزید واضح کیا کہ بطور کمانڈر ان چیف وہ خطے میں خطرات سے نمٹنے کے لیے فوج کو ہدایات دیتے رہیں گے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹس اور قانونی ماہرین نے صدر کے اس موقف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر نے اسے ایک ’غیر قانونی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب بکواس ہے، ریپبلکنز اس غیر قانونی عمل میں شریک ہیں جس سے روزانہ جانیں خطرے میں پڑ رہی ہیں اور عوام پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔
سینیٹ کی مسلح خدمات کمیٹی کی رکن جین شاہین نے کہا کہ ٹرمپ کا اعلان حقیقت کے برعکس ہے کیونکہ ہمارے ہزاروں فوجی اب بھی خطرے میں ہیں اور آبنائے ہرمز کی بندش سے قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’اے سی ایل یو‘ نے بھی وائٹ ہاؤس کو خط لکھ کر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ صدر ایک غیر قانونی جنگ چلا رہے ہیں۔
تنظیم کے مطابق وار پاورز ریزولوشن میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ جنگ بندی کے دوران جنگ کا وقت روک دیا جائے یا اسے دوبارہ صفر سے شروع کیا جائے۔
اس کے برعکس وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ میں گواہی دیتے ہوئے صدر کے موقف کی تائید کی کہ سیز فائر کی صورت میں 60 دن کی گھڑی رک جاتی ہے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ دشمنی ختم ہو گئی ہے، لیکن انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ایران کی جانب سے لاحق خطرات اب بھی اہم ہیں اور پینٹاگون خطے میں اپنی فوجی پوزیشن کو ضرورت کے مطابق تبدیل کرتا رہے گا۔













