چین میں دھماکہ: 21 افراد ہلاک، صدر شی جن پنگ کا فوری ایکشن
چین کے صوبے ہونان میں آتش بازی کا سامان بنانے والی ایک فیکٹری میں زوردار دھماکے کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک اور 61 زخمی ہو گئے ہیں۔
چین کے سرکاری میڈیا ’ژنہوا‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ پیر کی شام مقامی وقت کے مطابق تقریباً 4 بج کر 40 منٹ پر صوبائی دارالحکومت چانگشا میں پیش آیا، جو آتش بازی کی صنعت کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فیکٹری کی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور فضا میں سیاہ دھوئیں کے بادل بلند ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ دھماکہ ’ہوا شینگ فائر ورکس مینوفیکچرنگ اینڈ ڈسپلے کمپنی‘ میں ہوا جہاں امدادی کارروائیوں کے لیے تقریباً 500 فائر فائٹرز، ریسکیو اہلکار اور طبی عملے کی ضرورت پڑی۔
چینی صدر شی جن پنگ نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ حکام کو حکم دیا ہے کہ دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے فوری اور مکمل تحقیقات کی جائیں۔
ژنہوا کے مطابق صدر شی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تیزی سے تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کا سخت احتساب کیا جائے۔
صدر شی جن پنگ نے حکام کو یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں کہ ملک کی اہم صنعتوں میں خطرات کی جانچ پڑتال کے نظام کو مزید سخت بنایا جائے تاکہ عوامی تحفظ اور لوگوں کی جان و مال کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو حکم دیا کہ وہ عوامی تحفظ کے اقدامات کو بہتر بنائیں اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
واضح رہے کہ چین دنیا بھر میں آتش بازی کے سامان کی برآمدات میں سرفہرست ہے اور گزشتہ برس اس نے 1.14 ارب ڈالر مالیت کا سامان برآمد کیا جو عالمی فروخت کا دو تہائی سے بھی زیادہ حصہ بنتا ہے۔
صدر شی اکثر بڑے حادثات کے بعد مقامی حکام کو اہم ہدایات جاری کرتے رہتے ہیں اور گزشتہ ہفتے بھی انہوں نے ملک بھر میں آفات سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کرنے پر زور دیا تھا۔














