مائیکل جیکسن کی زندگی پر بنی فلم سے اصل تنازعات غائب کیوں کیے گئے؟
پاپ موسیقی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ مائیکل جیکسن کی زندگی پر مبنی فلم ’مائیکل‘ ریلیز کے بعد دنیا بھر میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔
اپریل میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں مائیکل جیکسن کا مرکزی کردار ان کے بھتیجے جعفر جیکسن نے نبھایا ہے۔ فلم کو شائقین کی جانب سے بہت پسند کیا جا رہا ہے اور انٹرنیٹ پر اسے بہترین ریٹنگ بھی ملی ہے، لیکن فلم کو دیکھنے کے بعد جہاں مداح اس کی تعریف کر رہے ہیں، وہیں کچھ حلقے اسے مائیکل جیکسن کی شخصیت کو ”صاف ستھرا“ دکھانے کی کوشش بھی قرار دے رہے ہیں۔
دنیا بھر میں بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ مائیکل جیکسن کی زندگی کے وہ پہلو اور تنازعات فلم میں کیوں نہیں دکھائے گئے جو برسوں تک میڈیا کی شہ سرخیاں بنے رہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کہ فلم سازوں نے ابتدا میں مائیکل جیکسن سے جڑے تنازعات اور الزامات پر مبنی مناظر بھی شوٹ کیے تھے۔ تاہم بعد میں قانونی پیچیدگیوں کے باعث ان سینز کو فلم سے نکالنا پڑا۔ یہ فلم مائیکل جیکسن کی زندگی کے 1966 سے 1988 تک کے دور کا احاطہ کرتی ہے اور جعفر جیکسن نے ان تمام مشکل مناظر کی عکس بندی بھی کروائی تھی۔
شوٹنگ مکمل ہونے کے بعد پروڈکشن ٹیم کو معلوم ہوا کہ 1993 کے ایک عدالتی کیس کے فیصلے میں ایک ایسی شرط موجود تھی جس کے تحت ان مخصوص واقعات کو کسی بھی تجارتی مقصد یا فلم کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اس قانونی رکاوٹ کے باعث فلم سازوں نے خود کو مقدمات سے بچانے کے لیے فلم کا اختتام بدلنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق، میکرز نے نہ صرف ان متنازع مناظر کو حذف کیا بلکہ فلم کے کچھ حصے دوبارہ شوٹ بھی کیے، جس پر اضافی لاگت آئی اور جعفر جیکسن کے ساتھ کئی مناظر دوبارہ فلمائے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ناظرین کو فلم میں مائیکل جیکسن کی زندگی سے متعلق کوئی بھی تنازع نہیں دکھائی دیتا، کیونکہ میکرز نے قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔
فلم سے جڑے ذرائع کا کہنا ہے کہ فلم سازوں کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا کیونکہ وہ مائیکل کی زندگی کو مکمل طور پر دکھانا چاہتے تھے لیکن قانونی چارہ جوئی کے ڈر سے انہوں نے پیچھے ہٹنا ہی بہتر سمجھا۔
ان کا کہنا ہے کہ جہاں تک تماشائیوں کی ناراضگی کا سوال ہے، تو معاملہ چونکہ قانونی ہے اس لیے میکرز چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
فلم کی کمائی کے حوالے سے بات کی جائے تو یہ بڑے بجٹ کی فلم باکس آفس پر شاندار کارکردگی دکھا رہی ہے اور دنیا بھر میں بھاری بزنس کر چکی ہے۔
اس کے باوجود کچھ ناظرین اب بھی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا مائیکل جیکسن کی مکمل کہانی دکھائے بغیر یہ بایوپک واقعی مکمل کہلا سکتی ہے؟
اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ فلم مزید کتنے ریکارڈ توڑتی ہے؟
















