ایران نے معاہدہ قبول کر لیا تو جنگ ختم اور آبنائے ہرمز کھل جائے گی: صدر ٹرمپ

انکار کی صورت میں شدید حملے کیے جائیں گے: امریکی صدر کی ایران کو دھمکی
شائع 06 مئ 2026 05:25pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران معاہدہ قبول کر لے تو جنگ ختم ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے انکار کی صورت میں شدید حملے کیے جائیں گے۔

امریکی صدرٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران طے شدہ شرائط کو قبول کر لیتا ہے تو جاری کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں ایپک فیوری نامی کارروائی ختم کر دی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو ایران سمیت تمام ممالک کے لیے کھول دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے شرائط ماننے کی صورت میں آبنائے ہرمز میں تمام ممالک کو بلا رکاوٹ رسائی دی جائے گی، جس سے خطے میں بحری آمدورفت معمول پر آ سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے عالمی تجارت کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔

تاہم امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر ایران نے ان شرائط کو تسلیم نہ کیا تو امریکا کی جانب سے فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جائے گی، جو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید اور وسیع پیمانے پر ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورت میں حملوں کی شدت میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے جاری ہے، جس میں علاقائی اثر و رسوخ اور سلامتی کے معاملات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے عالمی معیشت پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

قبل ازیں، امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور ایٹمی مذاکرات کے لیے ایک مختصر مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں ایران کی جانب سے اہم نکات پر جواب متوقع ہے، تاہم ابھی کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ مجوزہ یادداشت چودہ نکات پر مشتمل ہے، جس کے تحت جنگ بندی کا اعلان اور تیس دن کی عبوری مدت رکھی جائے گی۔

اس دوران آبنائے ہرمز کو کھولنے، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور امریکی پابندیاں ختم کرنے پر بات چیت ہوگی، جب کہ جہاز رانی پر پابندیاں اور بحری ناکا بندی بتدریج ختم کی جائے گی۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا کے پاس دوبارہ کارروائی کا اختیار ہوگا۔ تاہم ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ صرف منصفانہ معاہدہ ہی قبول کرے گا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور دیگر دوست ممالک کی اپیل پر آبنائے ہرمز میں جاری اپنے فوجی آپریشن پروجیکٹ فریڈم کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوطرفہ طور پر اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ فی الحال اس آپریشن کو روک دیا جائے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ تہران کے ساتھ کسی باضابطہ معاہدے کی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی فوج کی حالیہ کامیابیوں کے بعد اب حتمی معاہدے کے لیے بڑی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی باور کرایا کہ جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا، آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی سختی سے نافذ العمل رہے گی۔