'معاہدے کا ڈرافٹ تیار'؛ ایران نیوکلئیر ہتھیار نہیں بنائے گا: ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک انتہائی بڑا اور اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر راضی ہو گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان انتہائی مثبت مذاکرات ہوئے ہیں اور اب ایک باقاعدہ معاہدے کے امکانات بہت روشن ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ”سادہ سی بات ہے، ایران کے پاس نیوکلیر ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں اور وہ اب یہ ہتھیار نہیں بنائے گا، ایران اس نکتے سمیت دیگر کئی معاملات پر بھی راضی ہو گیا ہے۔“
صدر ٹرمپ نے ایران کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہاں حکومت کی تبدیلی ہوچکی ہے، ان کی پہلی اور دوسری قیادت ختم ہو چکی ہے جبکہ اب تیسری قیادت کے بھی کئی لوگ مارے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی طرف سے دی گئی تجویز کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے اور بہت ممکن ہے کہ ہم جلد کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جائیں۔
دوسری جانب عرب میڈیا (العربیہ نیوز) نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کا ڈرافٹ تیار ہو چکا ہے جس میں جنگ روکنے کی ٹائم لائن کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا کو واضح کر دیا ہے کہ اس کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوئی خواہش نہیں ہے، جس پر امریکی حکام نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی امریکی تجاویز پر غور کرنے کی تصدیق کر دی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی ان تجاویز پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکا ہے۔
ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ جیسے ہی کوئی فیصلہ ہوگا، وہ اپنے برادر ملک پاکستان کو اس بارے میں اعتماد میں لیں گے اور اپنا موقف بیان کریں گے۔













