ایران نے مسلح بلوچ گروپ کے مبینہ رکن کو پھانسی دے دی

سیستان بلوچستان میں کشیدگی کا خدشہ
شائع 12 مئ 2026 03:18pm

ایران نے ملک کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں سرگرم ایک مسلح بلوچ گروہ ’انصار الفرقان‘ سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ رکن کو پھانسی دے دی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق، اس کارروائی کو ایران کے شورش زدہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف ہونے والی مسلح بغاوت کو کچلنے کی کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

صوبہ سیستان بلوچستان طویل عرصے سے ایرانی سیکیورٹی فورسز اور مختلف مسلح گروہوں کے درمیان تصادم کا مرکز رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سزائے موت پانے والے قیدی کی شناخت عبدالخلیل شاہ بخش کے نام سے ہوئی ہے جس پر سیکیورٹی فورسز کے خلاف مسلح بغاوت اور ایک دہشت گرد گروہ کی رکنیت سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عبدالخلیل شاہ بخش پر الزامات ثابت ہونے کے بعد عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی تھی، جس کی بعد میں ملک کی سپریم کورٹ نے بھی توثیق کر دی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اکثر ایران میں ہونے والی ان سزاؤں پر تشویش کا اظہار کرتی رہتی ہیں، تاہم ایرانی میڈیا نے عدالتی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے اسے ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔