ایران جنگ: یو اے ای کے متاثرہ گیس پلانٹس کی بحالی میں 2 سال لگ سکتے ہیں: حکام
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے سب سے بڑے گیس پروسیسنگ پلانٹ ’حبشان‘ پر گزشتہ ماہ ہونے والے ایرانی حملوں کے طویل مدتی اثرات سامنے آرہے ہیں۔ پلانٹ چلانے والی کمپنی ’ادنوک گیس‘ کے مطابق اس تنصیب کی مکمل بحالی میں مزید دو سال لگ سکتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی قومی توانائی کمپنی ’ادنوک گیس‘ نے اعلان کیا ہے کہ ابوظہبی میں واقع حبشان گیس سائٹ، جو دنیا کے سب سے بڑے گیس پیداواری مراکز میں شمار ہوتی ہے، اس وقت اپنی 60 فیصد صلاحیت پر کام کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق توقع ہے کہ 2026 کے آخر تک پیداوار کو 80 فیصد تک بحال کر لیا جائے گا، تاہم مکمل پیداواری صلاحیت 2027 میں ہی بحال ہو سکے گی۔
ادنوک گیس نے اپنی پہلی سہ ماہی کی مالی رپورٹ میں بتایا کہ اس دوران کمپنی کو 1.1 ارب ڈالر کا منافع حاصل ہوا، تاہم یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 15 فیصد کم ہے۔
کمپنی کے مطابق منافع میں کمی کی بڑی وجوہات میں خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورت حال اور توانائی مارکیٹ میں مشکلات شامل ہیں، جس میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور کشیدگی کے باعث مزید اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے اپریل کے اوائل میں خطے میں امریکی اتحادیوں کے توانائی کے ڈھانچے پر حملوں میں تیزی لائی گئی تھی، اسی دوران حبشان کی تنصیب کو دو بار نشانہ بنایا گیا تھا۔ اماراتی دفاعی نظام کی جانب سے ڈرونز کو فضا میں روکنے کی کوشش کے دوران گرنے والے ملبے سے پلانٹ میں متعدد مقامات پر آگ لگ گئی تھی، جس کے باعث آپریشنز معطل ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات خطے میں ایل این جی کا تیسرا بڑا پیداواری ملک ہے جو سالانہ تقریباً 50 لاکھ ٹن گیس برآمد کرتا ہے۔ تاہم 28 فروری کو خطے میں جنگ چھڑنے کے بعد سے آبنائے ہرمز بند ہے۔ اگرچہ گزشتہ دو ہفتوں میں ادنوک کے دو ایل این جی بردار جہازوں نے اس گزرگاہ کو عبور کیا ہے، لیکن خطرات بدستور موجود ہیں۔
دوسری جانب امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں متحدہ عرب امارات نے بھی خاموشی سے حصہ لیتے ہوئے ایرانی اہداف پر فوجی حملے کیے۔ اخبار کے مطابق ان خفیہ حملوں میں خلیج فارس میں واقع ایران کے لاوان جزیرے پر ایک آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم متحدہ عرب امارات نے عوامی سطح پر اب تک ان حملوں کا اعتراف نہیں کیا ہے۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس کے ریئر ایڈمرل محمد اکبرزادہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤثر اور طاقتور کنٹرول موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی خطے کے دیگر ملکوں کے عوام سے کوئی دشمنی نہیں، تاہم بعض حکومتیں ہمیشہ ایران مخالف رویہ اپناتی رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران خطے میں ہونے والی تمام نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے سمندری حدود اور قومی مفادات پر کسی قسم کی جارحیت کی اجازت نہیں دے گا۔














