ایران سرنڈر کرکے سفید جھنڈا بھی لہرا دے تو میڈیا ادارے اسے تہران کی فتح قرار دیں گے: صدر ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں بعض میڈیا اداروں سی این این، نیویارک ٹائمز اور دی وال اسٹریٹ جنرل کا نام لیتے ہوئے تنقید کی۔
شائع 18 مئ 2026 09:15pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس اور امریکی میڈیا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کی قیادت سرنڈ کرکے سفید جھنڈا بھی لہرا دے تو بعض میڈیا ادارے اسے تہران کی فتح قرار دیں گے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے فریم ورک پر بات چیت جاری ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بعض میڈیا ادارے اور ڈیموکریٹس کسی بھی صورت حال کو امریکا کے خلاف پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اپنی پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے، اپنی بحریہ اور فضائیہ کی تباہی تسلیم کرے اور اس کی فوج ہتھیار پھینک کر سفید جھنڈا لہراتے ہوئے سرنڈر کر دے جب کہ قیادت باضابطہ طور پر شکست کی دستاویزات پر دستخط بھی کر دے تو بھی بعض میڈیا ادارے اس صورت حال کو بھی ایران کی فتح کے طور پر پیش کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں بعض میڈیا اداروں سی این این، نیویارک ٹائمز اور دی وال اسٹریٹ جنرل کا نام لیتے ہوئے تنقید کی۔ انہوں نے ان اداروں اور ڈیموکریٹس پر الزام عائد کیا کہ وہ صورت حال کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ ان کے مطابق یہ حلقے اپنا راستہ کھو چکے ہیں اور ان کی سوچ میں بگاڑ پیدا ہو چکا ہے۔

دوسری جانب رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر کوئی واضح مؤقف نہیں دیا۔ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے فریم ورک پر بات چیت جاری ہے جب کہ یہ عمل امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے تنازع کے تقریباً 80 دن بعد جاری ہے۔

اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ متعدد بار ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں اور امن معاہدے کے لیے ڈیڈ لائنز کا ذکر کرتے رہے ہیں تاہم بعض مواقع پر انہوں نے مذاکرات کے لیے مہلت بڑھانے اور سفارت کاری کو موقع دینے کا بھی عندیہ دیا ہے۔