امریکا کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دے رہے ہیں: ایران

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
اپ ڈیٹ 23 مئ 2026 08:51pm

ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت کے آثار سامنے آئے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ رہے ہیں، جب کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے آئندہ چند روز میں اہم اعلان کا اشارہ دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ اور مذاکراتی وفد کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے لیے رابطے جاری ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دونوں ممالک کے مؤقف میں قربت آئی ہے، تاہم حتمی نتائج کے لیے آئندہ چند دن اہم ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے پر توجہ دے رہا ہے، جب کہ مختلف معاملات پر سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں، تاہم مذاکراتی عمل آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مختصر مدت میں کسی بڑے نتیجے کی توقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی تاریخ طویل ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس تجویز کی مختلف شقوں پر فریقین نے اپنے اپنے مؤقف کا تبادلہ کیا ہے اور گزشتہ چند دنوں میں بعض نکات اور الفاظ پر اختلافات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ امریکی بحری جارحیت جسے امریکا بحری ناکا بندی قرار دیتا ہے کے خاتمے اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں پر سے پابندیوں کے خاتمے جیسے معاملات اس یادداشت کا اہم حصہ ہیں۔

دوسری جانب بھارت کے دورے پر موجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔

ْالجزیرہ‘ کے مطابق نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق سفارتی کوششیں جاری ہیں اور پس پردہ مختلف سطح پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے آج، کل یا آئندہ چند روز میں اس حوالے سے کوئی اہم پیش رفت سامنے آ جائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں، جب کہ پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ممالک بھی ثالثی کوششوں میں سرگرم ہیں۔

خیال رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقاتیں کیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اعلیٰ سطح کی بیٹھک میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتِ حال، علاقائی امن اور جنگ بندی کے مسودے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان اہم ملاقاتوں میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی آرمی چیف کے ہمراہ شریک تھے۔