فلوٹیلا کارکنوں سے ناروا سلوک، اسرائیلی وزیر کے فرانس داخلے پر پابندی

فرانسیسی وزیر خارجہ نے یورپی یونین سے بھی اسرائیلی وزیر پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کر دیا۔
شائع 23 مئ 2026 06:02pm

فرانس نے اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ فرانسیسی حکومت نے یہ فیصلہ غزہ جانے والے فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک کے بعد کیا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے ان پر فلسطینیوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ہوا دینے کا الزام بھی عائد کیا۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویرکو فرانس میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ فرانسیسی اور یورپی شہریوں کے ساتھ نامناسب رویے کے باعث کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اتمار بن گویر کے اقدامات ناقابل قبول ہیں، اسی لیے فوری طور پر ان کے فرانس میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی وزیر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے کے گرفتار کارکنوں کو ہاتھ بندھے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھایا گیا تھا، اور ویڈیو میں ان کا مذاق بھی اڑایا گیا۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگرچہ فرانس اس بحری قافلے کے طریقہ کار کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ اس سے سفارتی اور قونصلر خدمات پر دباؤ بڑھتا ہے، تاہم فرانسیسی شہریوں کو دھمکانے یا ان کے ساتھ بدسلوکی ہرگز برداشت نہیں کی جا سکتی، خصوصاً اگر ایسا کسی سرکاری عہدیدار کی جانب سے کیا جائے۔

ژاں نوئل بارو نے کہا کہ اتمار بن گویر کے اقدامات اور بیانات کی مذمت خود اسرائیل کے متعدد حکومتی اور سیاسی رہنماؤں نے بھی کی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیر ماضی میں بھی فلسطینیوں کے خلاف نفرت انگیز اور تشدد پر مبنی بیانات دیتے رہے ہیں۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ اتمار بن گویر پر مشترکہ پابندیاں عائد کی جائیں۔ اس سے قبل اٹلی بھی اسی نوعیت کا مطالبہ کر چکا ہے۔

اتمار بن گویر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اتحادی حکومت میں شامل ایک انتہائی دائیں بازو کے رہنما ہیں، جو غزہ جنگ اور فلسطینیوں سے متعلق اپنے سخت مؤقف کی وجہ سے عالمی تنقید کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز صمود فوٹیلا سے وابستہ کارکنان کی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں حراست اور ناروا سلوک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد صورتِ حال حساس ہو گئی تھی جب اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے عبرانی زبان میں کیپشن لکھا کہ ’ہم دہشت گردی کے حامیوں کے ساتھ اسی طرح پیش آتے ہیں۔‘

اسرائیلی وزیر کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا۔ اس واقعے کے بعد اٹلی، ترکیہ، کینیڈا، نیدرلینڈز، جرمنی، اسپین، بیلجیئم، فرانس، آئرلینڈ، نیدرلینڈ سمیت دیگر ممالک اور یورپی یونین نے اسے انسانی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی اور باضابطہ وضاحت کا مطالبہ کیا تھا۔