پاکستانی نوجوان نے بھارتی محبوبہ سے ملنے کے لیے ’لائن آف کنٹرول‘ پار کرلی

نوجوان اور اس کی گرل فرینڈ کو بھارتی ایجنسیوں نے حراست میں لے لیا
اپ ڈیٹ 01 جون 2026 11:36am

پاکستانی نوجوان نے سوشل میڈیا پر ہونے والی محبت کی خاطر آزاد اور مقبوضہ کشمیر کو ایک دوسرے سے الگ کرنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرلی، جس کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، اتوار کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب اڑی سیکٹر کے سلیکوٹ علاقے میں تعینات بھارتی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کے پار سے ایک نوجوان کو اپنی طرف آتے دیکھا، جسے مقبوضۃ کشمیر کی حدود میں داخل ہوتے ہی حراست میں لے لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی تفتیش کے دوران اس نوجوان نے اپنی شناخت ذیشان احمد میر ولد لال دین میر بتائی، جو مظفرآباد کے علاقے پائن کڈی کا رہائشی ہے، اور اس کے پاس سے ملنے والے پاکستانی شناختی کارڈ سے بھی اس کی تصدیق ہوئی ہے۔

نوجوان نے اڑی سیکٹر جیسے دنیا کے حساس ترین اور سخت پہرے والے سرحدی علاقے کو پار کرنے کی جو وجہ بتائی، اس نے سب کو حیران کر دیا۔

ذیشان نے بھارتی تفتیشی حکام کو بتایا کہ اس نے یہ خطرناک قدم اڑی کی رہنے والی اپنی محبوبہ ارم بانو سے ملنے کے لیے اٹھایا۔

ذیشان کے بیان کے مطابق، ان دونوں کی پہلی ملاقات سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی، جس کے بعد وہ مسلسل رابطے میں رہے اور اسی آن لائن دوستی کے بعد اس نے سرحد پار کرنے کا فیصلہ کیا۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ذیشان اور ارم بانو دونوں سے مختلف سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ نوجوان کے دعوؤں کی حقیقت کا پتہ لگایا جا سکے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، ایجنسیاں اس وقت دونوں کے موبائل فونز اور ڈیجیٹل پیغامات کی جانچ کر رہی ہیں تاکہ ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کی نوعیت کو سمجھا جا سکے۔