بیروت پر حملے کی صورت میں ایران کا اسرائیل کو جوابی کارروائی کا انتباہ
ایران کے مرکزی فوجی کمانڈ نے شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر حملہ کرنے کی اپنی دھمکی پر عمل کیا، تو وہ فوری طور پر اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بیروت پر حملہ کیا گیا تو شمالی اسرائیل کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایران خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق خاتم الانبیا مرکزی ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر نے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتباہ اسرائیلی فوج کی جانب سے بیروت کے علاقے ضاحیہ میں شہریوں کو زبردستی گھر خالی کرنے کے حکم کے ردعمل میں دیا گیا ہے۔
ایرانی فوجی کمانڈر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر بیروت پر حملے کی اس دھمکی پر عمل کیا گیا تو ہم مقبوضہ علاقوں کے شمالی حصوں اور فوجی بستیوں کے رہائشیوں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی بھی قسم کے نقصان سے بچنا چاہتے ہیں تو وہ فوری طور پر یہ علاقہ چھوڑ دیں۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی فورسز کو لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ میں موجود حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں پر تابڑ توڑ حملوں کا حکم دیا تھا۔
نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ حزب اللہ ہمارے شہروں اور شہریوں پر حملے کرے اور بیروت میں اس کے دہشت گردی کے مراکز محفوظ رہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ ہماری افواج لبنان کے جنوبی علاقے میں حزب اللہ کے مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جس سے یہ عسکری تنظیم پسپا ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی گزشتہ 26 برس کی سب سے گہری پیش قدمی کرتے ہوئے تاریخی بیوفورٹ قلعے پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔
اسرائیل نے ان حملوں پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ حزب اللہ نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کی ہے شمالی اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے اور اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد بیروت کے جنوبی علاقوں پر حملوں کا فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب حزب اللہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے جنگ بندی کی روح کے منافی ہیں اور خطے کو مزید وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
ادھر لبنانی حکومت نے بھی اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مارچ سے جاری لڑائی میں 3ہزار 330 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔
اسرائیلی حکومت نے کہا تھا کہ لبنان کے جنوبی علاقوں میں کارروائی کے دوران اسی عرصے میں اس کے درجنوں فوجی اور چند شہری بھی حزب اللہ کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق اپریل کو ہوا تھا اور پھر اس میں توسیع بھی کی گئی جو اب تک جاری ہے۔












