گوگل کا کروڑوں مچھروں کو امریکی فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ

مچھر دنیا کے خطرناک ترین حشرات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یہ ڈینگی، زیکا، ویسٹ نائل وائرس، چکن گونیا اور ملیریا جیسی بیماریوں کا سبب ہیں۔
شائع 02 جون 2026 10:49am

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے امریکی حکومت سے کیلیفورنیا اور فلوریڈا میں آئندہ دو برس کے دوران مجموعی طور پر 3 کروڑ 20 لاکھ مخصوص نر مچھر چھوڑنے کی اجازت طلب کی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایسے مچھروں کی تعداد کم کرنا ہے جو خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) اس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق گوگل ہر سال 1 کروڑ 60 لاکھ مچھر دونوں ریاستوں میں چھوڑنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے عوامی رائے لینے کا عمل 5 جون تک جاری رہے گا، جس کے بعد ایجنسی فیصلہ کرے گی کہ کمپنی کو تجرباتی اجازت نامہ دیا جائے یا نہیں۔

گوگل کا یہ منصوبہ “ڈی بگ“ پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت کمپنی جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں کی مدد سے بیماری پھیلانے والے مچھروں کی آبادی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مچھر دنیا کے خطرناک ترین حشرات میں شمار کیے جاتے ہیں کیونکہ یہ ڈینگی، زیکا، ویسٹ نائل وائرس، چکن گونیا اور ملیریا جیسی بیماریوں کو انسانوں تک منتقل کرتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق اس منصوبے میں صرف نر مچھر استعمال کیے جائیں گے۔ نر مچھر نہ انسانوں کو کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایک بیکٹیریا ”وولباخیا“ کو شامل کیا جاتا ہے۔ جب ایسا نر مچھر جنگلی مادہ مچھر کے ساتھ ملاپ کرتا ہے تو مادہ کے انڈے نہیں نکلتے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ مچھروں کی آبادی کم ہوتی جاتی ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی طریقے، جیسے کیڑے مار ادویات کا استعمال، بعض اوقات ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی افادیت بھی کم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح مچھروں کی افزائش کے تمام مقامات تلاش کرنا اور ختم کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔

اگرچہ ایک ٹیکنالوجی کمپنی کا مچھروں کی افزائش اور سائنسی تحقیق میں شامل ہونا غیر معمولی لگ سکتا ہے، لیکن گوگل کی بنیادی کمپنی الفابیٹ کئی برسوں سے صحت اور سائنسی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتی رہی ہے۔ ”ویریلی ہیلتھ“ نامی ادارہ، جو پہلے الفابیٹ کے تحت کام کرتا تھا، اس منصوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔ رواں سال کے آغاز میں گوگل نے ڈی بگ پروگرام کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

ماہرین کے مطابق گوگل جس طریقہ کار کو استعمال کر رہی ہے وہ مکمل طور پر نیا نہیں ہے۔ ”سٹرائل انسیکٹ ٹیکنیک“ یا جراثیم سے پاک کیڑوں کی تکنیک کئی دہائیوں سے مختلف نقصان دہ حشرات کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہر ایرک کاراگاتا کے مطابق وولباخیا بیکٹیریا کی مدد سے مچھروں کی افزائش روکنے کا طریقہ تقریباً 15 برس سے استعمال ہو رہا ہے۔

فی الحال گوگل اپنی توجہ ایڈیز ایجپٹی نامی مچھر پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جو ڈینگی، زیکا، پیلا بخار اور چکن گونیا کے زیادہ تر کیسز پھیلانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ کمپنی کے انجینئرز اور سائنس دان ڈیٹا اینالیٹکس، سینسرز اور اے آئی کی مدد سے ایسے خودکار نظام تیار کر رہے ہیں جو نر اور مادہ مچھروں میں درست فرق کر سکیں اور مطلوبہ تعداد میں نر مچھروں کو مناسب مقامات پر چھوڑ سکیں۔

ڈی بگ پروگرام کو سنگاپور میں بھی کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جو اس منصوبے کا پہلا بین الاقوامی تحقیقی مرکز تھا۔ گوگل کے مطابق سنگاپور میں لاکھوں نر وولباخیا مچھروں کو چھوڑنے کے بعد ایڈیز ایجپٹی مچھروں کی آبادی میں 80 سے 90 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جبکہ 6 سے 12 ماہ کے اندر ڈینگی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ان نتائج کے بعد کمپنی نے سنگاپور میں اپنے پروگرام کو مزید وسعت دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

ڈی بگ پروگرام کے سربراہ لائنس اپسن کا کہنا ہے کہ سنگاپور میں حاصل ہونے والے نتائج نے کمپنی کو مزید علاقوں تک اس منصوبے کو پھیلانے کا اعتماد دیا ہے، خاص طور پر ایشیا میں جہاں دنیا کے تقریباً 70 فیصد ڈینگی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔

امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی حتمی منظوری کے بعد ہی اس منصوبے کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ اگر اجازت مل جاتی ہے تو یہ منصوبہ بیماری پھیلانے والے مچھروں پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔