بجٹ 2026: کھانے پینے کی بنیادی اشیاء پر بھاری ٹیکسز کم نہ ہونے کا امکان

وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں اشیائے خورونوش پر بھاری ٹیکس کم نہ کیے جانے کا امکان ہے
شائع 02 جون 2026 10:59am

وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام کو اشیائے خورونوش پر بڑے پیمانے پر ریلیف ملنے کا امکان کم نظر آ رہا ہے۔ حکام کے مطابق حکومت نے کھانے پینے کی بنیادی اشیاء پر عائد سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز اور دیگر محصولات برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا بدستور مہنگی رہ سکتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ 2026 میں عام صارفین کو روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں فوری ریلیف ملنے کے امکانات محدود ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومتی محصولات کے اہداف پورے کرنے کے لیے بنیادی غذائی اشیاء اور ادویات پر عائد موجودہ ٹیکسز اور کسٹمز ڈیوٹیز میں کسی نمایاں کمی کی تجویز زیرِ غور نہیں ہے، جس کے باعث مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ان اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی توقعات کم ہیں۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ چینی، گھی، کوکنگ آئل اور چائے پر 18 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھا جائے گا۔ اسی طرح بنیادی غذائی اشیاء پر مختلف نوعیت کی ڈیوٹیز کی وصولی بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے ان اشیاء کی قیمتوں میں فوری کمی کے امکانات محدود ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ادویات پر عائد ایک فیصد سیلز ٹیکس بھی برقرار رہے گا۔

درآمدی چکن پر 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی اور 4 فیصد اضافی ڈیوٹی بدستور نافذ رہے گی، جبکہ انڈوں پر 3 سے 16 فیصد تک کسٹمز ڈیوٹی برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سبزیوں میں آلو پر 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی برقرار رکھنے کا امکان ہے، جبکہ ٹماٹر اور پیاز پر 5 فیصد ڈیوٹی برقرار رہے گی۔

گندم اور چاول پر 10 فیصد جبکہ آٹے پر 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی برقرار رکھنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ویجیٹیبل آئل اور کوکنگ آئل پر عائد بھاری کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں بھی کوئی نمایاں تبدیلی متوقع نہیں۔ خام سویابین اور دیگر خوردنی تیلوں پر فی ٹن ہزاروں روپے کی ڈیوٹیز بھی برقرار رکھی جائیں گی۔

واضح رہے کہ اگلے مالی سال کا بجٹ پیش کرنےکیلئے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیے گئے ہیں۔