دنیا کے 10 محفوظ ترین ممالک کی فہرست جاری
انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی جانب سے سال 2026 کا نیا گلوبل پیس انڈیکس جاری کر دیا گیا ہے، جس میں دنیا کے سب سے محفوظ اور پرامن ممالک کی فہرست سامنے آئی ہے۔ اس تازہ رپورٹ کے مطابق، جہاں ایک طرف دنیا بھر میں تنازعات اور جنگوں کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے، وہاں چند ممالک اب بھی ایسے ہیں جو اپنے شہریوں اور مسافروں کے لیے دنیا کے پرامن ترین مقامات ثابت ہوئے ہیں۔
فاربز کی رپورٹ کے مطابق اگر اس سال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے 10 سب سے محفوظ ممالک میں یورپی ملک آئس لینڈ نے ایک بار پھر پہلا نمبر حاصل کیا ہے۔
آئس لینڈ گزشتہ 19 برسوں سے مسلسل دنیا کا پرامن ترین ملک قرار پا رہا ہے۔ اس ملک کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کوئی باقاعدہ فوج نہیں ہے اور جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس فہرست میں دوسرے نمبر پر نیوزی لینڈ ہے، جس نے اپنے خطے میں امن و امان کی بہترین صورتحال برقرار رکھی ہے۔ تیسرے نمبر پر سوئٹزرلینڈ، چوتھے پر سلووینیا اور پانچویں نمبر پر آئرلینڈ موجود ہے۔ آسٹريا چھٹے، پرتگال ساتویں، سنگاپور آٹھویں، فن لینڈ نویں اور جاپان تین درجے ترقی کر کے دسویں نمبر پر آ گیا ہے۔ جاپان میں اندرونی امن کی صورتحال میں 25 فیصد بہتری دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان ممالک کے محفوظ ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں پرتشدد جرائم کی شرح بہت کم ہے، سیاسی استحکام موجود ہے، حکومتی ادارے بہترین کام کر رہے ہیں اور ان کے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امن کا یہ ماحول راتوں رات قائم نہیں ہوتا بلکہ اسے بنانے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سرفہرست ممالک کی پوزیشن میں سال بہ سال کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی۔ پرامن ممالک میں تشدد کی وجہ سے ہونے والا معاشی نقصان ان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف 2.2 فیصد ہوتا ہے، جبکہ بدامن ممالک میں یہ نقصان 23 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
دوسری طرف، اس رپورٹ میں دنیا بھر کے عمومی حالات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے خالق اسٹیو کلیلیہ کا کہنا ہے کہ دنیا اس وقت دو حصوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف وہ چند ممالک ہیں جہاں امن قائم ہے، جبکہ دوسری طرف دنیا کا بڑا حصہ تیزی سے بدامنی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
گزشتہ بارہ سالوں سے دنیا بھر میں مجموعی طور پر امن کی صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ سنہ 2010 کے بعد سے ممالک کے اندرونی تنازعات میں 175 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، اور بیرونی تنازعات میں الجھے ہوئے ممالک کی تعداد جو سنہ 2008 میں 59 تھی، اب بڑھ کر 103 ہو چکی ہے۔ حالیہ برسوں میں مڈل ایسٹ میں ہونے والی نئی جنگوں نے بھی عالمی سفر اور امن کو شدید متاثر کیا ہے۔
اس صورتِحال میں دنیا کی ایک بڑی طاقت، امریکا، اس سال چار درجے نیچے گر کر 134 ویں نمبر پر چلا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا میں سیاسی عدم استحکام میں ساڑھے 38 فیصد کمی آئی ہے، اور وہاں سیاسی تشدد کی شرح 1970 کے عشرے کے بعد اب سب سے بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ انڈیکس کسی ملک کے مجموعی امن، فوج، اور اندرونی حالات کو ناپتا ہے، یہ خالصتاً سیاحوں کے لیے گائیڈ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ کوئی ملک اس فہرست میں بہت اوپر ہے، لیکن وہاں بھی مسافروں کو سڑکوں کے حادثات، قدرتی آفات یا سیاحتی مقامات پر ہونے والی چھوٹی موٹی چوری چکاری کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس لیے سفر کرنے والوں کو ہمیشہ اپنی حکومتوں کی سفری ہدایات پر نظر رکھنی چاہیے۔














