فیفا: ایک میچ میں برازیل کو 8 ریڈ کارڈ کے باوجود امریکا سے شکست
برازیل اور امریکا کی خواتین فٹبال ٹیموں کے درمیان فرینڈلی میچ ایک عام دوستانہ مقابلے کے بجائے مکمل طور پر افراتفری اور غیر معمولی طور پر ہنگامہ خیز میچ میں بدل گیا، جہاں میچ کے دوران اور بعد میں مجموعی طور پر آٹھ ریڈ کارڈز دکھائے گئے۔
یہ میچ برازیل کے شہر فورٹالیزا میں کھیلا گیا، جہاں امریکا نے ایک سخت مقابلے کے بعد 1-0 سے کامیابی حاصل کی۔ فیصلہ کن گول سوفیا ولسن کے شاٹ سے ہوا جو برازیل کی ڈیفنڈر اسابیلا شاگاس سے ٹکرا کر جال میں چلا گیا۔
میچ میں کشیدگی اس وقت بڑھنا شروع ہوئی جب برازیل کے ہیڈ کوچ آرتھر ایلیاس اور ان کے تین معاون اسٹاف کو ریفری نے باہر بھیج دیا۔ اس کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی اور کھیل کے آخری لمحات میں کھلاڑیوں کے درمیان تلخ جملوں اور دھکم پیل نے ماحول کو مکمل طور پر کشیدہ بنا دیا۔
برازیل کی فارورڈ بیا زانیراٹو کو دوسرے پیلے کارڈ کے بعد میدان سے باہر بھیج دیا گیا، جب کہ اس سے پہلے ان کی ٹیم کی کھلاڑی تارسیانے کو ایک امریکی کھلاڑی کو کہنی مارنے پر ریڈ کارڈ دکھایا گیا۔ میچ ختم ہونے کے بعد بھی تنازعہ ختم نہ ہوا، کوریلِن کو ریفری سے بحث پر اور لڈمیلا کو طنزیہ تالیاں بجانے پر ریڈ کارڈ ملا، جس کے بعد مجموعی تعداد آٹھ تک جا پہنچی۔

صورتِحال اس حد تک بگڑ گئی کہ پولیس کے خصوصی دستے کو حفاظتی لباس میں میدان میں آ کر ریفری اور دیگر میچ آفیشلز کے گرد سخت حفاظتی حصار بنانا پڑا تاکہ مشتعل کھلاڑیوں، اسٹاف اور ہجوم کو ان تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔ اس وقت اسٹیڈیم میں 55 ہزار سے زائد تماشائی موجود تھے۔
امریکی ٹیم کی کوچ ایما ہیز نے میچ کے بعد کہا کہ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جسے وہ کبھی نہیں بھولیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی کوچنگ زندگی میں اتنے ریڈ کارڈز والا کوئی میچ نہیں دیکھا، اور بعض اوقات اتنے وقفے ہوئے کہ کھیل کا تسلسل ہی ٹوٹ گیا۔
امریکی مڈفیلڈر لنڈسے ہیپس نے بھی امید ظاہر کی کہ آئندہ ورلڈ کپ میں اس طرح کی صورتحال نہیں دیکھی جائے گی اور فٹبال کو دوبارہ خوبصورت کھیل کے طور پر کھیلا جانا چاہیے، نہ کہ اس انداز میں جس میں اس میچ میں کھیلا گیا۔
















