گرمی میں چھوٹی باتیں بڑے جھگڑوں میں کیوں بدل جاتی ہیں؟
کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ جون کی تپتی دوپہر میں آپ نے بنا کسی وجہ کے اپنے کسی پیارے پر غصہ نکال دیا ہو اور بعد میں خود ہی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہو؟ اگر ہاں، تو اس میں سارا قصور آپ کا نہیں بلکہ آسمان سے برستی اس آگ کا بھی ہے جو انسان کو اندر سے جلائے رکھتی ہے۔
گرمی کے موسم میں اکثر لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ جلد غصے میں آ جاتے ہیں، کام پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتے یا گھر میں معمولی باتوں پر بحث و تکرار شروع ہو جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جیسے ہی موسم کا درجہ حرارت بڑھتا ہے، انسان کے اندر کا سکون اور صبر کا مادہ کم ہونے لگتا ہے، جس کی وجہ سے معمولی سی بات پر بھی گھروں میں اچھے خاصے جھگڑے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
نفسیات کے ماہرین اس کیفیت کو ٹمپریچر اگریشن تھیوری کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے جو یہ سمجھاتا ہے کہ جب موسم حد سے زیادہ گرم ہوتا ہے، تو انسان چڑچڑے پن اور مایوسی کا شکار ہونے لگتا ہے۔
ماہرِین نفسیات کے مطابق شدید گرمی انسان کو جسمانی اور ذہنی طور پر اس حد تک تھکا دیتی ہے کہ اس کا اپنے جذبات پر قابو نہیں رہتا اور وہ جلدی غصے میں آ جاتا ہے۔ البتہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گرمی اکیلی کچھ نہیں کرتی، اگر کوئی پہلے سے ہی کام کے دباؤ یا مالی پریشانیوں کا شکار ہو تو تپتا ہوا موسم اس کے غصے کے لیے ماچس کی تلی کا کام کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض تحقیقات میں گرم موسم اور جارحانہ رویوں کے درمیان تعلق بھی دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب جسم مسلسل گرمی سے لڑ رہا ہو تو انسان کی برداشت کم ہو جاتی ہے اور جذبات جلد بھڑک سکتے ہیں۔
سائنسدانوں نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ گرمی میں جسم سے پسینہ نکلنے کی وجہ سے پانی کی کمی ہو جاتی ہے، چہرہ مرجھا جاتا ہے اور رات کو سکون کی نیند نہیں آتی۔ جب نیند پوری نہ ہو اور جسم تھکا ہوا ہو، تو انسان ان چھوٹی موٹی باتوں پر بھی آپے سے باہر ہو جاتا ہے جنہیں وہ عام دنوں میں ہنس کر ٹال دیتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی حالیہ طبی رپورٹس میں یہ اضافی معلومات بھی سامنے آئی ہیں کہ گرمیوں میں چلنے والی لو کے مقابلے میں رات کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت انسانی صحت کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
دن بھر کی تپش کے بعد اگر راتیں بھی گرم رہیں تو انسانی جسم کو خود کو ٹھنڈا کرنے کا موقع نہیں ملتا، جس سے دماغی سکون برباد ہو جاتا ہے اور اگلے دن غصے اور چڑچڑے پن کی شدت دگنی ہو جاتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تپتے ہوئے موسم میں اپنے دماغ کو کیسے ٹھنڈا رکھا جائے؟
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اس کا حل بہت آسان ہے۔ سب سے پہلے اپنے پاس پانی کی بوتل رکھیں اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد پانی پیتے رہیں تاکہ جسم تازہ دم رہے۔
جب بھی گرمی میں کسی بات پر غصہ آنے لگے، تو فوراً بولنے کے بجائے چند سیکنڈ کے لیے خاموش ہو جائیں، کسی ٹھنڈی جگہ پر بیٹھیں اور اپنے ماحول کو پرسکون بنائیں۔ اس کے بعد بات چیت کریں، کیونکہ بعض اوقات مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا گرمی اسے بنا دیتی ہے۔
ماہرین کا مجموعی طور پر کہنا ہے کہ گرمی رشتوں کے مسائل یا جھگڑوں کی واحد وجہ نہیں ہوتی، لیکن یہ انسان کو زیادہ حساس، بے چین اور جذباتی بنا سکتی ہے۔ ایسے میں شدید گرمی میں اگلی بار جب کہیں آپس میں تکرار ہونے لگے، تو ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے سے پہلے پنکھے کی رفتار تیز کریں، ٹھنڈا پانی پیئں اور اپنے کمرے کا درجہ حرارت چیک کریں، کیونکہ ممکن ہے قصور صرف سامنے والے کا نہیں، موسم کا بھی ہو۔
















