کچھ لوگوں کو چھپکلیوں سے ڈر کیوں لگتا ہے؟

جب تک ڈر ختم نہیں ہوتا، چھپکلی کا خوف انسان کو جینے نہیں دیتا۔
شائع 21 جون 2026 12:34pm

ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں چھپکلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جبکہ دوسری طرف کچھ لوگ اسے دیکھ کر ہی خوف سے کانپنے لگتے ہیں۔ اکثر لوگ یہ کہہ کر اس ڈر کا مذاق اڑاتے ہیں کہ یہ چھوٹی سی چیز تمہارا کیا بگاڑ لے گی، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ چھپکلی کو دیکھ کر کچھ لوگوں کا دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے، انہیں سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے اور وہ شدید گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ایسے لوگ چھپکلیوں کو بھگانے کے لیے پیاز کے چھلکے، لہسن اور ڈیٹول اسپرے جیسی ہر چیز کا استعمال کرتے ہیں اور گھر میں داخل ہوتے وقت بھی ڈرتے ہیں۔

ڈر صرف اس چیز کا نہیں ہوتا بلکہ ہمارا دماغ اس چیز کے بارے میں کیا سوچتا ہے، اصل بات یہ ہے۔ کچھ لوگ اچانک حرکت کرنے والی چیزوں سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ اگر کسی بچے کے سامنے اس کے والدین چھپکلی کو دیکھ کر چلائیں یا کمرے سے بھاگ جائیں، تو بچہ بھی غیر ارادی طور پر یہی سیکھتا ہے۔

ڈرنا ایک عام بات ہے جو انسان کو خطرے سے بچاتی ہے، لیکن اگر یہ ڈر اتنا بڑھ جائے کہ انسان اس کے خوف سے کمروں میں جانا چھوڑ دے، اکیلے رہنے سے کترائے اور ہر وقت دیواروں کو دیکھتا رہے تو دماغی امراض کے ماہرین اسے ایک نفسیاتی بیماری فوبیا کہتے ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ اس کا علاج ممکن ہے اور بات چیت کے خاص طریقہ علاج کے ذریعے دماغ کو یہ سکھایا جا سکتا ہے کہ یہ چیزیں اتنی خطرناک نہیں ہیں، جس سے برسوں پرانا ڈر بھی ختم ہو سکتا ہے۔

انڈیا ڈاٹ کام کے مطابق ماہر نفسیات ڈاکٹر سنیل ماریا بینیڈکٹ نے اس بارے میں کہا کہ یہ چھپکلی کا ڈر نہیں بلکہ اس کی بناوٹ، جلد اور اچانک تیز رفتاری سے چلنے کا انداز ہے جو انسانی دماغ کے خطرے کے نظام کو بیدار کر دیتا ہے جس سے دل تیز دھڑکنے لگتا ہے اور پسینہ آنے لگتا ہے۔ اس لیے کسی کے اس خوف کا مذاق اڑانا یا یہ کہنا کہ یہ کچھ نہیں کہے گی، بالکل غلط ہے کیونکہ جب تک وہ ڈر ختم نہیں ہوتا، چھپکلی کا خوف انسان کو جینے نہیں دیتا۔

ماہرین کے مطابق رویے کی تھراپی اور بتدریج سامنا کروانے والے طریقے سے اس خوف کو کم کیا جا سکتا ہے اور وقت کے ساتھ انسان اس پر قابو پا سکتا ہے۔

ہر شخص کا خوف مختلف ہوتا ہے، اس لیے کسی کے ڈر کو ہنسی میں اڑانے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ جس کے لیے یہ عام بات ہے، دوسرے کے لیے یہ ایک بہت بڑا ذہنی دباؤ ہو سکتا ہے۔