راجپال یادو پر قرض کا شکنجہ مزید سخت، جائیدادوں کی نیلامی کا نوٹس جاری
بولی ووڈ کے معروف کامیڈین اور اداکار راجپال یادو کی مالی اور قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ چیک باؤنس کیس میں عدالت سے سزا ملنے کے چند ہفتوں بعد اب سینٹرل بینک آف انڈیا نے تقریباً 16 کروڑ 61 لاکھ روپے کے بقایا قرض کی وصولی کے لیے ان کی آبائی جائیدادوں کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹرل بینک آف انڈیا نے اتر پردیش کے ضلع شاہجہاں پور کے گاؤں کندرا میں واقع راجپال یادو کے آبائی گھر سمیت دیگر گروی رکھی گئی جائیدادوں پر ضبطی کے نوٹس چسپاں کر دیے ہیں۔ بینک کا کہنا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں قرض ادا نہ کیا گیا تو 9 ستمبر 2026 کو ان جائیدادوں کی ای نیلامی کی جائے گی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راجپال یادو، ان کی اہلیہ رادھا یادو اور والدہ گوداوری یادو پر مجموعی طور پر 16 کروڑ 61 لاکھ بھارتی روپے واجب الادا ہیں۔ قرض کی ضمانت کے طور پر شاہجہاں پور میں واقع آبائی مکان، ایک اور رہائشی جائیداد، زرعی زمین اور دیگر اثاثے گروی رکھے گئے تھے۔
ان جائیدادوں کی مجموعی ریزرو قیمت تقریباً 3 کروڑ 19 لاکھ بھارتی روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ نیلامی میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد کو 7 ستمبر تک 31 لاکھ بھارتی روپے بطور ضمانتی رقم جمع کرانا ہوگی۔
راجپال یادو کے بڑے بھائی شری پال یادو نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، ”یہ ایک پرانا معاملہ ہے۔ بینک کے ساتھ قرض کی ادائیگی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور ہمیں امید ہے کہ نیلامی کی نوبت نہیں آئے گی۔ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔“
سینٹرل بینک آف انڈیا کے منیجر انوج ورما نے بھی تصدیق کی کہ کندرا میں واقع آبائی مکان پر ضبطی کا نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اسی معاملے میں تقریباً دو سال پہلے بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد بینک اور راجپال یادو کے درمیان قرض کی ادائیگی پر ایک معاہدہ طے پایا تھا۔“
یہ مالی تنازع راجپال یادو کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ”اتا پتا لاپتا“ سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے 2005 میں اپنے والدین کے نام سے ”نورنگ گوداوری انٹرٹینمنٹ لمیٹڈ“ قائم کی اور فلم کی تیاری کے لیے ممبئی میں سینٹرل بینک آف انڈیا کی برانچ سے تقریباً 5 کروڑ بھارتی روپے قرض لیا تھا۔
تاہم فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی، جس کے باعث قرض بروقت ادا نہیں کیا جا سکا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سود اور دیگر مالی واجبات شامل ہوتے گئے اور بینک کے مطابق اب مجموعی رقم بڑھ کر 16 کروڑ 61 لاکھ بھارتی روپے تک پہنچ چکی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب بینک نے راجپال یادو کے خلاف کارروائی کی ہو۔ اگست 2024 میں بھی شاہجہاں پور میں ان کی ایک جائیداد کے حصے کو سیل کر دیا گیا تھا، کیونکہ اس وقت بقایا قرض تقریباً 11 کروڑ بھارتی روپے تک پہنچ چکا تھا۔
اداکار اس وقت چیک باؤنس کیس میں بھی قانونی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ دہلی ہائی کورٹ نے اسی قرض سے متعلق سات چیک باؤنس مقدمات میں راجپال یادو کو تین ماہ قید کی سزا سنائی تھی اور ہر مقدمے میں ایک کروڑ پانچ لاکھ بھارتی روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی بتایا تھا کہ اداکار پہلے ہی تقریباً دو کروڑ بھارتی روپے جمع کرا چکے ہیں، جنہیں مجموعی واجبات میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
یہ مقدمہ کئی برس پرانا ہے۔ 2018 میں ٹرائل کورٹ نے راجپال یادو اور ان کی اہلیہ رادھا یادیو کو قصوروار قرار دیا تھا، جبکہ 2019 میں سیشن کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی۔
بعد ازاں دہلی ہائی کورٹ نے 2024 میں سزا عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے تقریباً 9 کروڑ بھارتی روپے ادا کرنے کی ہدایت کی تھی، لیکن ادائیگی نہ ہونے پر فروری 2026 میں اداکار کو خود کو تہاڑ جیل کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا۔ راجپال یادو نے 5 فروری کو گرفتاری دی تھی اور تقریباً 12 دن بعد انہیں عبوری ضمانت مل گئی تھی۔
دوسری جانب راجپال یادو کے پیشہ ورانہ کیریئر کا سلسلہ جاری ہے۔ وہ حال ہی میں فلم ”ویلکم ٹو دی جنگل“ میں نظر آئے، جبکہ اب وہ پریہ درشن کی آنے والی فلم ”حیوان“ میں اکشے کمار اور سیف علی خان کے ساتھ دکھائی دیں گے۔
















