پانچ مشہور پاکستانی ڈرامے جو ویڈیو ٹیپ کے ذریعے عرب امارات پہنچے

سیٹلائٹ کے بغیر سرحد پار پہنچنے والے ان شاہکار ڈراموں نے امارات کے دل جیت لیے۔
شائع 08 اگست 2026 01:54pm

پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ کے چند شاہکار ڈرامے ایسے ہیں جن کا سحر دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہو سکا۔ اگرچہ آپ نے ان پرانے ڈراموں کی ایک بھی قسط نہ دیکھی ہو، پھر بھی یہ نام آپ کے ذہن پر نقش ہوں گے کیونکہ گھر کی محفلوں میں یہ نام سیکڑوں بار پکارے جاتے ہیں۔ اکثر گھروں میں کسی نٹ کھٹ اور چلبلی لڑکی کا موازنہ ’ان کہی‘ کی ثناء مراد سے کیا جاتا ہے، یا پھر کوئی نہ کوئی آج کا ڈراما دیکھتے ہوئے حسرت سے یہ ضرور کہہ دیتا ہے کہ ’دھوپ کنارے‘ جیسا شاہکار اب کہاں بنتا ہے۔

گلف نیوز کی ایک رپورٹ نے بھی پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت کا اعتراف کرتے ہوئے ماضی کے ان پانچ مشہور ڈراموں کا ذکر کیا ہے، جو سیٹلائٹ ٹی وی کے عام ہونے سے بہت پہلے ویڈیو کیسٹس کے ذریعے متحدہ عرب امارات پہنچے اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے دلوں میں گھر کر گئے۔

اس دور میں پاکستان سے نشر ہونے والے ڈرامے براہِ راست سیٹلائٹ کے ذریعے امارات نہیں پہنچتے تھے۔ پاکستان میں ریکارڈ کی گئی ویڈیو کیسٹس کسی نہ کسی مسافر کے سوٹ کیس میں چھپ کر شارجہ اور ابوظہبی پہنچتی تھیں اور پھر ایک خاندان سے دوسرے خاندان تک ہاتھوں ہاتھ منتقل ہوتی رہتیں۔

رپورٹ کے مطابق بار بار چلنے سے کیسٹ کی پٹی گھس جاتی اور اسکرین پر تصویر دھندلا جاتی، مگر چوتھے یا پانچویں گھر تک پہنچتے پہنچتے خراب ویڈیو کے باوجود لوگوں کی محبت اور دیکھنے کا جوش ذرا کم نہ ہوتا تھا۔

کئی شاہکار ڈرامے لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے، کیونکہ بات صرف بہترین کہانی اور مکالموں کی نہیں تھی، بلکہ پورا خاندان ایک ساتھ بیٹھ کر انہیں کسی تہوار کی طرح دیکھا کرتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایسے ہی کئی پاکستانی ڈرامے متحدہ عرب امارات میں رہنے والی پاکستانی کمیونٹی کی یادوں کا حصہ بن گئے۔ ان میں پانچ ڈرامے خاص طور پر آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔

دھوپ کنارے

987 میں نشر ہونے والا ڈرامہ ’دھوپ کنارے‘ پاکستانی ٹیلی وژن کے یادگار ڈراموں میں شمار ہوتا ہے۔ حسینہ معین کی تحریر اور سائرہ کاظمی کی ہدایت کاری میں بننے والے اس ڈرامے میں مرینہ خان اور راحت کاظمی نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔

کہانی کراچی کے ایک اسپتال میں کام کرنے والے دو ڈاکٹروں کے گرد گھومتی ہے۔ ایک کردار سنجیدہ طبیعت کا ہے جبکہ دوسرا نسبتاً بے فکری اور شوخ مزاج رکھتا ہے۔ دونوں کے درمیان تعلق اور جذبات کو صرف 13 اقساط میں پیش کیا گیا۔

مرینہ خان اور راحت کاظمی کی جوڑی اس دور میں بے حد مقبول ہوئی اور آج بھی اسے پاکستانی ٹی وی کی کامیاب جوڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

اس ڈرامے کی موسیقی بھی ناظرین کی یادوں کا حصہ بن گئی۔ ڈرامے کے پس منظر میں نیرہ نور کی آواز میں فیض احمد فیض کی نظم نے ایسا جادو جگایا جو چالیس سال بعد بھی لوگوں کو جذباتی کر دیتا ہے۔

تنہائیاں

1985 میں نشر ہونے والا ’تنہائیاں‘ بھی حسینہ معین کی تحریر تھا جبکہ شہزاد خلیل نے اس کی ہدایت کاری کی۔ ڈرامے میں شہناز شیخ، مرینہ خان اور بہروز سبزواری نے اہم کردار ادا کیے۔

ڈرامہ کی کہانی دو ایسی بہنوں کے گرد گھومتی ہے جو اچانک اپنے والدین اور گھر سے محروم ہو جاتی ہیں اور پھر اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر اپنا سب کچھ واپس حاصل کرتی ہیں۔

حسینہ معین اور ہدایت کار شہزاد خلیل نے اس ڈرامے میں پہلی بار پاکستانی عورت کو نوکری کرتے اور اپنے فیصلے خود لیتے دکھایا، لیکن اس سنجیدہ پیغام کے ساتھ ساتھ ڈرامے کا مزاح ایسا تھا کہ لوگ آج بھی مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتے اور یہی وجہ ہے کہ اسے پاکستانی ٹی وی کے اہم ڈراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ان کہی

1982 میں نشر ہونے والا ’ان کہی‘ بھی حسینہ معین کی تحریر تھی۔ شہناز شیخ، جاوید شیخ، بہروز سبزواری اور قاضی واجد اس کے نمایاں اداکاروں میں شامل تھے۔

ڈرامے کی مرکزی ہیروئن ثناء مراد کا کردار شہناز شیخ نے امر کر دیا تھا۔ ثناء مراد کا کردار ایک ایسی مڈل کلاس اور کم تعلیم یافتہ مگر تیز طرار لڑکی کا تھا جو اپنی باتوں کے جال سے بڑی سے بڑی نوکری حاصل کر لیتی تھی۔ شہناز شیخ نے اس کردار کو اس قدر مقبول بنایا کہ ’ثنا مراد‘ کا نام آج بھی پاکستانی ڈراموں کے شائقین کے لیے ایک خاص کردار کی یاد دلاتا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کردار کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ بولی ووڈ نے بھی سال 2000 میں بننے والی فلم ’چل میرے بھائی‘ میں یہی کہانی کاپی کر لی۔

الفا براوو چارلی

1998 میں نشر ہونے والا ’الفا براوو چارلی‘ شعیب منصور کی تخلیق تھا۔ اس ڈرامے میں تین دوستوں کی کہانی دکھائی گئی جو فوج میں شامل ہوتے ہیں اور پھر کیڈٹ ٹریننگ سے آگے کی زندگی میں مختلف حالات کا سامنا کرتے ہیں۔ فوج میں بھرتی ہونے والے تین بے تکلف دوستوں کی اس کہانی نے جذبہ حب الوطنی اور دوستی کو ایک نیا روپ دیا۔

اسٹوڈیو کے بجائے کھلے میدانوں اور خوبصورت مقامات پر شوٹ ہونے والے اس ڈرامے نے اس دور میں مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے تھے۔

عینک والا جن

’عینک والا جن‘ 1993 میں خاص طور پر بچوں کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ ایک ایسا جن جو اپنی نظر کا چشمہ بنوانے زمین پر آتا ہے اور پھر ہنساتے ہنساتے سب کو اپنا دیوانہ بنا لیتا ہے۔

اگر ’دھوپ کنارے‘ اور ’ان کہی‘ والدین اور نوجوان نسل کے پسندیدہ ڈرامے تھے تو ’عینک والا جن‘ اس دور کے بچوں کا مقبول ترین ڈرامہ رہا۔

ڈرامے کے کردار زکوٹا جن کو لوگ آج بھی نہیں بھولے۔ رپورٹ کے مطابق ’عینک والا جن‘ نے پاکستانی بچوں کی ایک پوری نسل کو متاثر کیا اور آج بھی اس کے کردار لوگوں کو یاد ہیں۔

یہ ڈراما اس قدر مشہور ہوا کہ 1996 میں جب برطانیہ کی شہزادی لیڈی ڈیانا نے پاکستان کا دورہ کیا تو اس ڈرامے کی پوری ٹیم کو ان کے سامنے پرفارم کرنے کے لیے خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔

ان تمام لازوال کہانیاں بنانے کے پیچھے زیادہ تر ہاتھ حسینہ معین کا تھا، جنہوں نے اس زمانے میں عورت کو مضبوط اور بااختیار دکھانے کی جرات کی۔ ان کی ہیروئنز دفتر چلاتی تھیں اور مردوں کی غلط باتوں پر نا کہنا جانتی تھیں۔

مارچ 2021 میں جب ان کا انتقال ہوا تو پاکستان میں بڑے پیمانے پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے ڈراموں کو پاکستانی ٹیلی وژن کی تاریخ کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔

آج یہ تمام ڈرامے انٹرنیٹ اور یوٹیوب پر بالکل مفت اور صاف آواز کے ساتھ موجود ہیں۔ رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر آپ بھی ماضی کے اس سنہری دور کا لطف اٹھانا چاہتے ہیں تو دھوپ کنارے سے شروعات کریں کیونکہ اس کی صرف 13 اقساط ہیں اور بہتر یہی ہوگا کہ ان پرانے ڈراموں کو اپنے گھر کے ان بزرگوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھیں جو پچھلے بیس سال سے آپ کو ان ڈراموں کی مثالیں دیتے آ رہے ہیں۔