زمین کیوں کانپتی ہے؟ زلزلے اور سونامی سے جڑی کہانیاں اور حقیقت

جیسے جیسے سائنس نے ترقی کی، پرانے خیالات جھوٹے ثابت ہوتے گئے اور ہر نئے حادثے نے انسان کو حقیقت کے قریب کر دیا۔
اپ ڈیٹ 25 جون 2026 11:13am

انسان کی پوری تاریخ میں جتنا نقصان زلزلوں نے پہنچایا ہے، اتنا کسی اور قدرتی آفت نے نہیں پہنچایا۔ پرانے وقتوں میں جب سائنس اور مشینوں کا وجود نہیں تھا اور دنیا کی سچائیوں کو جاننے کے لیے تحقیق نہیں ہوئی تھی، تو الگ الگ ادوار میں مختلف لوگ زلزلوں کے بارے میں عجیب و غریب باتیں اور قصے کہانیاں بتاتے تھے۔

مثال کے طور پر چلی کی ایک قوم کا ماننا تھا کہ ایک بہت بڑی چھپکلی نے پوری زمین کو اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا ہے اور جب وہ ہلتی ہے تو زمین کانپنے لگتی ہے۔

مذہبی عقیدے رکھنے والے لوگ سمجھتے تھے کہ خدا اپنے نافرمان بندوں کو ڈرانے کے لیے زمین ہلاتا ہے۔

اسی طرح ہندوؤں کی پرانی کہانیوں میں یہ تصور تھا کہ زمین کو ایک گائے نے اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے اور جب وہ تھک کر اپنا سینگ بدلتی ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

یونان کے پرانے فلاسفروں ارسطو اور افلاطون کے خیالات کچھ حد تک سائنسی تھے، ان کا کہنا تھا کہ زمین کے اندر موجود ہوا جب گرم ہو کر باہر نکلنے کے لیے زمین کی تہوں کو توڑتی ہے تو زلزلے آتے ہیں۔

لیکن جیسے جیسے سائنس نے ترقی کی، پرانے خیالات جھوٹے ثابت ہوتے گئے اور ہر نئے حادثے نے انسان کو حقیقت کے قریب کر دیا۔

زلزلہ اتنی خاموشی سے آتا ہے کہ کسی کو پہلے سے کانوں کان خبر نہیں ہوتی، اور انسان کو پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ اپنے پیچھے تباہی اور بربادی مچا چکا ہوتا ہے۔

اب ایسی مشینیں ضرور بن چکی ہیں جو زلزلے کے دوران اس کی طاقت، اس کے مرکز اور اس کے بعد آنے والے جھٹکوں کی معلومات دے دیتی ہیں۔

زمین کے بارے میں جاننے والے ماہرین ارضیات بتاتے ہیں کہ زلزلے آنے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ زمین کے اندر موجود بڑی بڑی چٹانوں یا پلیٹوں کا ٹوٹنا ہے، اور دوسری وجہ آتش فشاں پہاڑوں کا پھٹنا ہے۔

ہماری زمین کے اندر مختلف گہرائیوں میں پتھر کی بڑی بڑی تہیں یا پلیٹیں موجود ہیں جنہیں ٹیکٹونک پلیٹس کہتے ہیں۔

ان پلیٹوں کے نیچے ایک پگھلا ہوا گرم مادہ ہوتا ہے جسے ’میگما‘ کہتے ہیں۔

جب میگما کی گرمی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے تو زمین کے اندر ایک بجلی جیسا کرنٹ پیدا ہوتا ہے، جس سے یہ پلیٹیں ہلنے لگتی ہیں اور آپس میں ٹکرا کر بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔

ٹوٹنے کے بعد ان پلیٹوں کا کچھ حصہ اس پگھلے ہوئے مادے میں دھنس جاتا ہے اور کچھ حصہ اوپر کو ابھر آتا ہے، جس کی وجہ سے زمین پر رہنے والے انسانوں اور جانوروں کو سطح پر شدید جھٹکے اور ارتعاش محسوس ہوتا ہے۔

زلزلے کا دورانیہ اور اس کی شدت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ زمین کے اندر کتنی گرمی تھی اور پلیٹیں کتنی برے طریقے سے ٹوٹیں۔

اسی طرح جب زمین کے نیچے سے گرم لاوا پوری طاقت کے ساتھ زمین کی تہوں کو پھاڑتا ہوا باہر نکلتا ہے، تو اندرونی پلیٹوں میں شدید قسم کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ لہریں زمین کے نیچے تین سے پندرہ کلومیٹر فی سیکنڈ کی تیز رفتار سے سفر کرتی ہیں اور انہیں چار اقسام میں بانٹا گیا ہے۔

دو لہریں زمین کی اوپر کی سطح کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں جبکہ باقی دو لہریں زمین کے اندر ہی سفر کرتی ہیں، جنہیں پرائمری اور سیکنڈری لہریں کہتے ہیں۔

پرائمری لہریں آواز کی لہروں کی طرح زمین کے اندر موجود چٹانوں اور پانی جیسی مائع چیزوں سے گزر جاتی ہیں۔ سیکنڈری لہروں کی رفتار تھوڑی کم ہوتی ہے اور وہ صرف سخت چٹانوں سے گزر سکتی ہیں اور مائع چیزوں میں بے اثر ہو جاتی ہیں۔

لیکن یہ سیکنڈری لہریں جب چٹانوں سے گزرتی ہیں تو ایک نئی لہر بناتی ہیں جو زمین کے مرکز کو ہلا کر زلزلے کا سبب بنتی ہے۔ یہ لہریں جتنی تیز ہوں گی، زمین پر اتنا ہی بڑا زلزلہ محسوس ہو گا۔

اب سوال یہ ہے کہ سونامی کیسے آتا ہے؟

تو اگر یہی زلزلہ زمین کے بجائے سمندر کے نیچے آ جائے، تو زلزلے کی پوری طاقت پانی میں شدید ہلچل اور بڑی بڑی لہریں پیدا کر دیتی ہے۔

یہ لہریں سمندر کی سطح پر پانچ سو سے ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے، بغیر اپنی طاقت کم کیے، ہزاروں میل دور خشکی کی طرف دوڑتی ہیں اور ساحل سے ٹکرا کر ایسی تباہی پھیلاتی ہیں جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

اس کی سب سے بڑی مثال سال 2004 میں انڈونیشیا میں آنے والا زلزلہ اور سونامی ہے، جس کی اونچی لہروں نے ہندوستان اور سری لنکا جیسے دور دراز ملکوں کے ساحلوں پر بھی ایسی ہولناک تباہی مچائی تھی جس کی گونج آج بھی ان علاقوں میں سنائی دیتی ہے۔