اسرائیلی وزیر بن گویر کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات، امریکا میں درخواست دائر
بیلجیم میں قائم ہند رجب فاؤنڈیشن (ایچ آر ایف) نے امریکی محکمۂ انصاف سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کے خلاف جنگی جرائم، نسل کشی اور نسل کشی پر اکسانے کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کی جائے۔
یہ درخواست بن گویر کے 7 اور 8 جولائی کو متوقع دورۂ نیویارک سے قبل دائر کی گئی ہے، جہاں وہ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہونے والی پولیس سربراہان اور داخلی سلامتی کے وزرا کی سالانہ کانفرنس میں اسرائیلی وفد کی قیادت کرنے والے ہیں۔ کانفرنس کا موضوع ”امن میں سرمایہ کاری“ رکھا گیا ہے۔
تنظیم کا مؤقف ہے کہ بن گویر مبینہ طور پر جنگی جرائم، جیلوں میں منظم تشدد، قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی، قتل، جنسی تشدد اور نسل کشی پر اکسانے کی پالیسیوں کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔
ہند رجب فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ بن گویر، جو اسرائیلی جیل سروس اور بارڈر پولیس کے نگران ہیں، نے مبینہ طور پر قیدیوں کے لیے سخت اور غیر انسانی حالات کو فروغ دیا، جن میں بھوکا رکھنا، تشدد، جنسی زیادتی، طبی سہولتوں سے محروم کرنا اور دیگر ناروا سلوک شامل ہیں۔
تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بن گویر بعض مبینہ بدسلوکی کے واقعات میں ذاتی طور پر شریک رہے اور ان کی ویڈیوز بھی بنائیں۔ فاؤنڈیشن کے مطابق ان مبینہ متاثرین میں کچھ امریکی شہری بھی شامل ہیں، جس کی بنیاد پر امریکی محکمہ انصاف کو اس معاملے میں قانونی اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔
درخواست میں امریکی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بن گویر کے خلاف فوجداری تحقیقات کا آغاز کیا جائے، ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں اور امریکا سے ان کی روانگی پر پابندی عائد کی جائے۔
اگرچہ اسرائیلی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت قومی سلامتی کی وزارت کے ماتحت نہیں، تاہم فاؤنڈیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ بن گویر کی قیادت میں فلسطینیوں، بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شن بیت پر بھی قیدیوں کے ساتھ تشدد کے الزامات میں اضافہ ہوا ہے۔
تنظیم کے مطابق اکتوبر 2023 سے اگست 2025 کے درمیان شن بیت کی تحویل میں کم از کم 46 فلسطینی قیدیوں کی ہلاکت کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جنہیں وہ مبینہ تشدد کی پالیسی کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔
ہند رجب فاؤنڈیشن نے مزید الزام لگایا ہے کہ بن گویر نے جیلوں میں مبینہ تشدد اور غیر انسانی سلوک کے بعض واقعات میں خود حصہ لیا اور انہیں ریکارڈ بھی کیا۔ اس سلسلے میں تنظیم نے اشدود بندرگاہ پر فریڈم فلوٹیلا کے شرکا کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا ہے، جس میں بن گویر کی موجودگی اور ویڈیو ریکارڈنگ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تاحال اسرائیلی حکومت یا بن گویر کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔













