یورپ میں گرمی کے نئے ریکارڈ قائم: فرانس میں 1000 اضافی اموات رپورٹ

ڈنمارک، جرمنی اور چیک ری پبلک میں درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے، کئی یورپی ممالک میں ریڈ الرٹ جاری
شائع 28 جون 2026 06:00pm

برِاعظم یورپ اس وقت شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کی زد میں ہے، جہاں کئی ممالک میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہو چکے ہیں اور اتوار کو بھی بعض علاقوں میں پارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے یا اس سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی ہے۔ فرانس میں صرف چند روز کے دوران تقریباً ایک ہزار اضافی اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ ماہرین اس صورت حال کو کاربن اخراج سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ ہیٹ ویو کے دوران فرانس، ڈنمارک، جرمنی اور جمہوریہ چیک سممیت یورپ کے کئی ملکوں میں درجہ حرارت کے تمام ریکارڈز ٹوٹ گئے ہیں۔

فرانس کی پبلک ہیلتھ ایجنسی کے مطابق 24 جون سے جاری ہیٹ ویو کے دوران معمول سے تقریباً ایک ہزار اضافی اموات رپورٹ ہوچکی ہیں، جن میں زیادہ تر معمر افراد شامل ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ان اموات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ڈنمارک میں 1874 کے بعد پہلی مرتبہ درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا جب کہ جرمنی میں 41.5 اور چیک ری پبلک میں 40.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

پولینڈ کے بیشتر علاقوں میں بھی درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا گیا ہے، جب کہ رومانیہ میں پیر سے بدھ تک تقریباً پورے ملک کے لیے ریڈ ہیٹ ویو وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ یورپ کے دیگر ممالک میں بھی سورج معمول کے مقابلے میں آگ برسا رہا ہے۔

اتوار کے روز جرمنی، پولینڈ اور اٹلی کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جب کہ فرانس کے بعض علاقوں میں طوفانی بارشوں نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو یورپ میں کم از کم 19 کروڑ 10 لاکھ افراد ایسے علاقوں میں موجود ہوں گے جہاں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ رہنے کی پیش گوئی ہے۔

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں شدید گرمی کے باعث ہفتے کے بعد اتوار کو بھی پولیس کو سڑکوں پر واٹر کینن کے ذریعے شہریوں پر پانی کا چھڑکاؤ کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ جرمن محکمہ موسمیات کے مطابق مشرقی جرمنی میں رات کے وقت درجہ حرارت 29.4 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آیا، جسے اب تک کی گرم ترین رات قرار دیا جا رہا ہے۔

گرمی کی اس لہر نے یورپ کے دریاؤں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث پانی کی سطح کم اور درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورت حال نے بجلی کی پیداوار اور زرعی شعبے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ہنگری کے ڈینیوب دریا کے گرم پانی کے باعث بجلی گھر کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ سوئٹزرلینڈ سمیت کئی یورپی ممالک بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

شدید گرمی کے بعد آنے والے طوفانی موسم کے باعث فرانس اور جرمنی میں کئی بڑے ایونٹس منسوخ یا متاثر ہوئے ہیں۔ فرانس کے شمالی اور وسطی علاقوں میں طوفان کے نتیجے میں تقریباً 63 ہزار گھر بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔

شدید گرمی کے باعث پیرس مینز فیشن ویک میں فیشن شو کے دوران نصب کی گئی مصنوعی پانی کی لہر پر بھی تنازع کھرا ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے ہیٹ ویو کے دوران پانی کے استعمال پر منتظمین کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

فرانس اور اسپین سمیت مختلف یورپی ممالک نے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دن کے انتہائی گرم اوقات میں غیر ضروری برقی آلات کے استعمال سے گریز کریں تاکہ بجلی کے نظام پر دباؤ کم کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی ہیٹ ویو کی بڑی وجہ ’اومیگا بلاک‘ نامی موسمیاتی نظام ہے، جس میں گرم ہوا کا دباؤ طویل عرصے تک کسی خطے پر قائم رہتا ہے، جب کہ اس کے اطراف نسبتاً ٹھنڈی ہوا گردش کرتی رہتی ہے۔ پیش گوئی کے مطابق ہفتے کے اختتام پر بعض علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے، جس کے بعد درجہ حرارت میں بتدریج کمی آ سکتی ہے۔