شادی پر ملنے والے زیورات اور تحائف دلہن کی ملکیت ہیں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس مال و سامان اور زیور پر شوہر یا سسرال کا کوئی بھی قانونی یا ملکیتی حق نہیں بنتا۔
شائع 30 جون 2026 09:03am

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ نے خواتین کے حق میں ایک بہت بڑا اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے یہ صاف کر دیا ہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی کو ملنے والے تمام زیورات اور تحائف صرف اور صرف دلہن کی اپنی ذاتی ملکیت ہیں۔

عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک تحریری فیصلے کے مطابق، شادی کے وقت دلہن کو چاہے اس کے اپنے ماں باپ کی طرف سے سونے کے زیورات ملیں یا پھر سسرال والوں کی طرف سے کوئی بھی برائیڈل گفٹ دیا جائے، ان سب چیزوں پر صرف اور صرف اس لڑکی کا اپنا حق ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس مال و سامان اور زیور پر شوہر یا سسرال کا کوئی بھی قانونی یا ملکیتی حق نہیں بنتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں عام لوگوں کی آسانی کے لیے یہ بات بھی واضح کی ہے کہ اگر کبھی کوئی ایسا جھگڑا سامنے آتا ہے، تو فیملی کورٹ کو ایسے کیسز سننے اور ان پر فیصلہ دینے کا پورا پورا قانونی اختیار حاصل ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم ہونے والے تین رکنی بینچ کا یہ اہم فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے تحریر کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے سسرال والوں کی طرف سے زیورات کی واپسی سے متعلق دائر کی گئی اپیل کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔

جج صاحبان نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر حکم دیا ہے کہ اگر کوئی بھی عورت اپنے شوہر یا ساس کے خلاف اپنے سونے کے زیورات اور ذاتی سامان کی واپسی کا دعویٰ کرنا چاہے، تو وہ فیملی کورٹ میں بالکل کیس کر سکتی ہے اور فیملی کورٹ قانون کے مطابق یہ کیس سننے کی پابند ہے۔

اس فیصلے کے بعد اب شادی بیاہ پر لڑکی کو ملنے والے تحائف اور زیورات قانونی طور پر پوری طرح محفوظ ہو گئے ہیں اور کوئی بھی انہیں زبردستی لڑکی سے نہیں چھین سکتا۔