رہائش کے لیے دنیا کے بہترین شہروں کی فہرست جاری، کراچی کون سے نمبر پر؟
اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ نے 2026 کے لیے دنیا کے بہتریں رہائشی شہروں کی سالانہ درجہ بندی جاری کر دی ہے، جس میں ڈنمارک کا دارالحکومت کوپن ہیگن مسلسل دوسرے سال بھی پہلے نمبر پر رہا۔ رپورٹ میں دنیا بھر کے 173 شہروں کو استحکام، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، ثقافت اور ماحول سمیت مختلف شعبوں کی بنیاد پر جانچا گیا ہے۔
دی اکانومسٹ میگزین کے ذیلی ادارے اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق کوپن ہیگن نے مسلسل دوسرے سال دنیا کے رہنے کے لیے بہترین شہر کا اعزاز برقرار رکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈنمارک کے دارالحکومت کو استحکام، انفراسٹرکچر اور تعلیم کے شعبوں میں مکمل (100 فیصد) اسکور حاصل ہوئے جب کہ بہترین عوامی خدمات، مضبوط انفراسٹرکچر، ثقافتی ماحول اور اعلیٰ معیارِ زندگی اس کی کامیابی کی اہم وجوہات قرار دی گئیں۔
آسٹریا کا دارالحکومت ویانا جو اس سے قبل 2022 سے 2024 تک مسلسل تین برس تک پہلے نمبر پر رہا تھا، اس سال بھی دوسرے نمبر پر رہا۔ آسٹریلیا کا شہر میلبرن ایک درجے ترقی کے بعد تیسرے جب کہ سڈنی دو درجے بہتری کے ساتھ چوتھے نمبر پر آگیا۔
گزشتہ سال ویانا کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر موجود سوئٹزرلینڈ کا شہر زیورخ اس سال تین درجے تنزلی کے بعد پانچویں نمبر پر آگیا جب کہ جنیوا چھٹے نمبر پر رہا۔
جاپان کا شہر اوساکا مسلسل ساتویں نمبر پر برقرار رہا، آسٹریلیا کا شہر ایڈیلیڈ آٹھویں، کینیڈا کا شہر وینکوور نویں اور جاپان کا دارالحکومت ٹوکیو دسویں نمبر پر رہا۔
دنیا کے رہنے کے لیے بہترین 10 شہر
- کوپن ہیگن، ڈنمارک
- ویانا، آسٹریا
- میلبورن، آسٹریلیا
- سڈنی، آسٹریلیا
- زیورخ، سوئٹزرلینڈ
- جنیوا، سوئٹزرلینڈ
- اوساکا، جاپان
- ایڈیلیڈ، آسٹریلیا
- وینکوور، کینیڈا
- ٹوکیو، جاپان
رپورٹ کے مطابق امریکا کا شہر نیویارک جرائم کی شرح میں کمی اور دہشت گردی کے خطرات سے متعلق بہتر استحکام کی درجہ بندی کے باعث تین درجے ترقی کرکے 66 ویں نمبر پر پہنچ گیا تاہم امریکی شہر ہونو لولو دو درجے تنزلی کے باوجود 25ویں نمبر پر رہتے ہوئے امریکا کا سب سے زیادہ قابلِ رہائش شہر قرار پایا جب کہ شمالی امریکا کے صرف ایک شہر وینکوور نے عالمی ٹاپ 10 میں جگہ بنائی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی یورپ مجموعی طور پر اب بھی رہنے کے لیے دنیا کا بہترین خطہ ہے تاہم اس کا اوسط اسکور 2025 کے مقابلے میں معمولی کم ہو کر 91.7 رہا۔
دوسری جانب ایشیا کے اوسط اسکور میں 0.3 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور یہ 73.9 تک پہنچ گیا، جس کی بڑی وجہ صحت کے شعبے میں بہتری رہی، خصوصاً چین کے مختلف شہروں میں۔
رپورٹ کے مطابق چین کے شہر فوزو نے صحت کے شعبے میں بہتری کی بدولت سات درجے ترقی کرتے ہوئے 93 ویں پوزیشن حاصل کی۔اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے مطابق چین میں صحت کی سہولیات پر سرمایہ کاری، فنڈنگ میں اضافے، طویل المدتی نگہداشت کے نئے انشورنس نظام اور طبی سہولیات میں بہتری کے باعث چینی شہروں کی درجہ بندی بہتر ہوئی۔
برطانیہ میں گزشتہ سال فسادات اور بدامنی کے باعث درجہ بندی متاثر ہوئی تھی تاہم اس سال بہتری دیکھنے میں آئی۔ مانچسٹر 52 ویں نمبر کے ساتھ برطانیہ کا سب سے زیادہ قابلِ رہائش شہر قرار پایا جب کہ لندن 54 ویں اور ایڈنبرا 64 ویں نمبر پر رہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ کے شہروں کی درجہ بندی ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات کے باعث متاثر ہوئی، جہاں استحکام کے اشاریے میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ سب سے زیادہ تنزلی مسقط، دوحہ، کویت، ابوظبی، دبئی، اور منامہ کے درجات میں ہوئی۔
سلطنت عمان کا دارالحکومت مسقط 14 درجے تنزلی کے بعد 123 ویں نمبر پر آگیا اور کویت سٹی 12 درجے نیچے آکر 105 ویں نمبر پر پہنچ گیا جب کہ منامہ 116 اور دوحہ 108 نمبر پر ہے۔
اسی طرح رہائش کے لیے بہترین شہروں کی فہرست میں دبئی 79، ابوظبی 76 نمبر پر ہے جب کہ کراچی کا 170 واں نمبر ہے جب کہ شام کا دارالحکومت دمشق اس فہرست میں سب سے آخری نمبر پر ہے اور دمشق اب بھی دنیا کا سب سے کم قابلِ رہائش شہر قرار پایا۔
رپورٹ کے مطابق ایران کا دارالحکومت تہران جنگ کے اثرات کے باعث تنزلی کے بعد 164 ویں اور یوکرین کا دارالحکومت کیف 166 ویں نمبر پر آگیا۔
اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی انڈسٹری ڈائریکٹر اینا نکولز کے مطابق عالمی سطح پر رہنے کے قابل شہروں کا اوسط اسکور گزشتہ سال کے برابر رہا کیوں کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام میں کمی اور ایشیا میں صحت کے شعبے میں بہتری نے ایک دوسرے کے اثرات کو متوازن کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایشیا میں بہتری کے باعث اب دنیا کے بہترین 20 شہروں میں 9 ایشیائی اور 7 یورپی شہر شامل ہیں۔













