امریکا-ایران کشیدگی کے 3 ممکنہ منظرنامے

آنے والے چند دن صرف امریکا اور ایران کے تعلقات کا نہیں بلکہ عالمی امن، توانائی کے تحفظ اور بین الاقوامی معیشت کے مستقبل کا بھی فیصلہ کریں گے۔
شائع 10 جولائ 2026 02:59pm

دنیا ایک مرتبہ پھر ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں چند سفارتی فیصلے عالمی سیاست، معیشت اور امن و استحکام کا رخ بدل سکتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور ایک دوسرے پر حملوں نے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ اگر جاری سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا نازک پل ٹوٹ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات صرف واشنگٹن اور تہران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر عالمی منڈیوں تک ہر سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ چار دہائیوں سے کشیدگی، پابندیوں اور باہمی عدم اعتماد کی علامت رہے ہیں۔ کئی بار مذاکرات کے ذریعے تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی، مگر ہر بار کوئی نہ کوئی واقعہ اس عمل کو سبوتاژ کر دیتا رہا۔ اس بار فرق یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی غزہ، لبنان، شام، عراق اور یمن کے تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر امریکا اور ایران پھر آمنے سامنے آ گئے تو یہ بحران کسی ایک سرحد تک محدود نہیں رہے گا۔

اصل سوال یہ نہیں کہ حالیہ حملوں کا ذمہ دار کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگر یہ کشیدگی معاہدے کی ناکامی پر منتج ہوئی تو اس کے بعد دنیا کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سب سے پہلے اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ میں سامنے آئیں گے۔ ایران کے اتحادی مختلف ممالک میں متحرک ہیں، جبکہ امریکا، اسرائیل اور اس کے علاقائی اتحادی پہلے ہی ہائی الرٹ پر ہیں۔

اگر حملوں کا سلسلہ بڑھتا ہے تو محدود فوجی کارروائیاں ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں، جس سے بحری راستے، توانائی کی تنصیبات اور بین الاقوامی تجارت براہِ راست متاثر ہو گی۔

اس ممکنہ بحران کا سب سے اہم پہلو آبنائے ہرمز ہے، جو عالمی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے سمندری راستے سے برآمد ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اگر یہاں کشیدگی بڑھتی ہے یا جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں تیزی سے بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگا۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا۔ توانائی مہنگی ہونے سے صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، فضائی سفر اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسی صورت حال عالمی مہنگائی میں اضافے، اسٹاک مارکیٹوں میں غیر یقینی کیفیت اور سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری کی طلب میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً وہ معیشتیں جو توانائی درآمد کرتی ہیں، اس دباؤ کو سب سے پہلے محسوس کرتی ہیں۔

یہ تنازع صرف امریکا اور ایران کا نہیں۔ چین، روس، یورپ اور خلیجی ممالک کے سیاسی اور معاشی مفادات بھی اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ چین اپنی توانائی کی مسلسل فراہمی چاہتا ہے، یورپ کسی نئے توانائی بحران سے بچنا چاہتا ہے، روس خطے میں اپنے تزویراتی مفادات کا تحفظ کرے گا، جبکہ خلیجی ممالک ہر قیمت پر جنگ کو اپنے دروازے تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی اولین ترجیح یہی ہوگی کہ مذاکرات کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت برقرار رہے۔

اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اسرائیل کا کردار بھی زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ تنازع صرف دو ممالک کے درمیان نہیں رہے گا بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے سیکورٹی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات بحیرہ احمر، خلیج عمان اور عالمی بحری تجارت تک پھیل سکتے ہیں۔

پاکستان بھی اس صورتِ حال سے الگ نہیں رہ سکتا۔ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل، مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ اہم سفارتی تعلقات ہیں، اس لیے اسلام آباد کے لیے متوازن خارجہ پالیسی برقرار رکھنا پہلے سے زیادہ اہم ہو جائے گا۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے ایک سفارتی موقع بھی موجود ہے۔ حالیہ برسوں میں اسلام آباد نے خطے میں متوازن اور محتاط سفارت کاری کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے امریکا، ایران، سعودی عرب، قطر اور چین کے ساتھ بیک وقت روابط موجود ہیں، جو اسے محدود ہی سہی، مگر اعتماد سازی کی کوششوں میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگر اسلام آباد دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر خاموش سفارت کاری کو مؤثر بناتا ہے تو وہ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

آنے والے دن تین ممکنہ منظرنامے سامنے لا سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ دونوں ممالک محدود کشیدگی کے بعد دوبارہ مذاکرات کی طرف لوٹ آئیں، جو عالمی امن اور معیشت کے لیے سب سے بہتر راستہ ہوگا۔

دوسرا یہ کہ حملے جاری رہیں مگر جنگ محدود دائرے میں رہے، جس سے غیر یقینی صورتِ حال برقرار رہے گی۔ تیسرا اور سب سے خطرناک امکان یہ ہے کہ سفارت کاری مکمل طور پر ناکام ہو جائے، آبنائے ہرمز متاثر ہو، علاقائی اتحادی بھی میدان میں آجائیں اور مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں آ جائے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف حملے نہ کرنے کا معاہدہ موجود ہے جس کی خلاف ورزی کے الزامات دونوں فریق ایک دوسرے پر لگا رہے ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں معاہدے صرف قانونی دستاویزات نہیں ہوتے بلکہ اعتماد اور امن کی بنیاد ہوتے ہیں۔

آج دنیا کو طاقت کے اظہار سے زیادہ دانش مندانہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ جنگ کا آغاز چند لمحوں میں ہو سکتا ہے، مگر اعتماد کی بحالی میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان سمیت خطے کے تمام ذمہ دار ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ آنے والے چند دن صرف امریکا اور ایران کے تعلقات کا نہیں بلکہ عالمی امن، توانائی کے تحفظ اور بین الاقوامی معیشت کے مستقبل کا بھی فیصلہ کریں گے۔