ایران سے مذاکرات جاری رکھنے پر رضا مند ہیں لیکن جنگ بندی ختم ہوچکی: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے، جسے واشنگٹن نے قبول کر لیا ہے تاہم امریکا نے تہران کو واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی (سیز فائر) اب ختم ہو چکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تو اسے ایسے نتائج بھگتنا ہوں گے جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھے ہوں گے۔
جمعے کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی درخواست کی ہے تاہم ہم نے ایران کی درخواست پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا نے ایران کو دو ٹوک الفاظ میں آگاہ کر دیا ہے کہ جنگ بندی اب برقرار نہیں رہی۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی ختم ہونے کا اعلان کیا ہے لیکن دوسری جانب امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران پر کوئی نئی امریکی فوجی کارروائی نہیں کی گئی۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ایران گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل کرے تو امریکا بھی اس کی پابندی جاری رکھے گا۔ اپریل کے اوائل سے دونوں ممالک کے درمیان ایک جنگ بندی برقرار تھی تاہم دو روز سے جاری حالیہ فوجی جھڑپوں نے اس معاہدے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
نیویارک پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران ان کے قتل میں کامیاب ہوا تو اسے بھیانک نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایک عرصے سے ایران کی ”ہٹ لسٹ“ پر ہیں، امید ہے کہ آپ مجھے یاد رکھیں گے۔
امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایات دے دی ہیں کہ اگر ایران نے انہیں قتل کیا تو ایران پر ایسی بمباری کی جائے ”جو انہوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔“
نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے امریکا کو ایک انٹیلی جنس رپورٹ فراہم کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے فراہم کردہ ان معلومات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود شدید کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یہ انٹیلی جنس معلومات ایک ایسے وقت میں امریکا کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں جب امریکا نے آبنائے ہرمز میں حملوں کے ذریعے ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم تیز کر دی ہے جب کہ بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان بھی کیا تھا۔
ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر صدارتی طیارے ‘ایئرفورس ون’ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران والے سچ پوچھیں تو پاگل ہو چکے ہیں، وہ کچھ حد تک قابو سے باہر ہیں لیکن وہ شدت سے کوئی ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری محمد باقر ذولغدر نے خبردار کیا ہے کہ اس کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کا جواب دیا جائے گا اور اسرائیل کو بخشا نہیں جائے گا۔
ایران کی سیکیورٹی فورس پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر امریکا اور اسرائیل سے شدید انتقام لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ کبھی بھی تاریخ کے حافظے سے مٹایا نہیں جا سکتا۔














