آبنائے ہرمز کے بعد ایران کا بحیرہ احمر میں اپنا ایک اور بہترین ہتھیار استعمال کرنے کا اشارہ
آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت روکنے کے بعد اب ایران نے دنیا کو اپنا سب سے خطرناک ہتھیار دکھانے کا اشارہ دے دیا ہے، جس کے تحت وہ یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کے ذریعے بحیرہ احمر کے انتہائی اہم راستے ’باب المندب‘ کو بھی بند کر سکتا ہے۔
اس اقدام سے واشنگٹن کے خلاف ایک نیا محاذ کھل جائے گا اور دنیا کی دو سب سے اہم تجارتی اور توانائی کی شریانیں شدید خطرے میں پڑ جائیں گی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ایران کے اندر امریکی حملے تیز ہو رہے ہیں اور دوسری طرف حوثیوں کے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے، تہران اس جنگ کا دائرہ کار وسیع کر کے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ واشنگٹن پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
واضح رہے کہ ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز میں تجارتی راستے روک کر اپنی طاقت کا لوہا منوا چکا ہے، اور اب وہ باب المندب کو دوسرا دباؤ کا مرکز بنانے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے، جہاں سے سعودی عرب کا تیل اور دنیا کی تجارتی مصنوعات گزرتی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق، یمن کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے پیر کے روز خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے یمن پر اپنے حملے جاری رکھے تو ملکی افواج باب المندب کو بند کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، جس سے دنیا میں تیل کی قیمتیں دو سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
حوثی مزاحمتی تحریک ’انصار اللہ‘ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد الفرح نے ایران کے ’پریس ٹی وی‘ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن حکومت سعودی عرب کو یمن پر حملے کرنے کے لیے اکسا رہی ہے اور یہ اشتعال انگیزی خود امریکا کے حق میں کبھی بہتر ثابت نہیں ہوگی۔
انہوں نے انتباہی لہجے میں کہا کہ اگر موجودہ صورتحال مزید خراب ہوئی تو باب المندب اور آبنائے ہرمز کو ایک باقاعدہ جنگی اتحاد کے تحت مکمل بند کر دیا جائے گا، جس کے بعد تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہوئی دو سو ڈالر فی بیرل تک جا پہنچیں گی جو پوری دنیا کے لیے ایک بھیانک دھچکا ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز تہران کا سب سے بڑا ہتھیار ہے تو باب المندب اس کا آخری اور سب سے اہم متبادل پتّا ہو سکتا ہے۔
مڈل ایسٹ کے امور کے ماہر اور اسکالر فواد جرجس نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس جنگ میں آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران واشنگٹن کو یہ دکھا رہا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں دونوں اہم ترین بحری راستوں کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے یہ لڑائی دو ملکوں کے بجائے پوری دنیا کی توانائی اور معیشت کی جنگ بن جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تہران اب قریب اور دور دونوں جگہوں پر جنگ بڑھا رہا ہے اور اس کا پیغام واضح ہے کہ اب صرف ہرمز ہی نہیں بلکہ باب المندب بھی خطرے میں ہے۔
اسپتالوں، بندرگاہوں اور تجارتی راستوں پر منڈلاتے اس خطرے کے حوالے سے کنگز کالج لندن کے سیکیورٹی اسٹیڈیز کے ماہر اینڈریاس کریگ نے یمنی حوثیوں کی اس تازہ دھمکی کو ایران کا ’دوسرا ایٹمی آپشن‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران یہ انتہائی قدم صرف اس صورت میں اٹھائے گا جب پاسداران انقلاب کو یہ یقین ہو جائے گا کہ اب ایک بڑی اور کھلی جنگ سے بچنا ناممکن ہو چکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایران کی بنیادی تنصیبات پر حملے تیز کیے تو تہران یمن کے ذریعے باب المندب بند کروا دے گا۔
دوسری جانب سعودی عرب میں قائم گلف ریسرچ سینٹر کے چیئرمین عبدالعزیز صقر نے کہا کہ خلیجی ممالک اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ایران کے ساتھ سفارت کاری کی حدیں ختم ہو چکی ہیں، چاہے اس جنگ کی خطے کو کتنی ہی بھاری قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک فاتح ایران یا ایک ہارا ہوا ایران، دونوں ہی صورتیں خطے کے لیے نقصان دہ ہیں، لیکن اگر خطے کا سیکیورٹی ماحول ہمیشہ کے لیے پرامن ہو جائے تو بہت سی خلیجی ریاستیں ایران کی شکست کی قیمت چکانا زیادہ پسند کریں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حوثی باغی باب المندب کو بند کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں لیکن وہ تہران کے واضح اشارے کے بغیر ایسا کوئی بڑا قدم نہیں اٹھائیں گے۔
امریکا کے سابق مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کار ڈینس روس کا واشنگٹن سے کہنا تھا کہ اس وقت اصل چیلنج یہ ہے کہ ایران کی سوچ کو کس طرح بدلا جائے تاکہ وہ دوبارہ سنجیدہ مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہو سکے، اور صرف زبانی باتیں نہ کرے بلکہ ایک ایسا باقاعدہ معاہدہ کرے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
واضح رہے کہ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والی اس جنگ نے پورے خلیج کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس میں اب تک خاص طور پر ایران اور لبنان میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔












