چین نے امریکی اے آئی سے مدد لے کر اپنا دفاعی نظام تیار کر لیا

امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی جنگ اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے فوجی صلاحیتیں بڑھانے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
شائع 01 اگست 2026 09:18am

چین کے فوجی تحقیقاتی اداروں سے وابستہ سائنس دانوں نے امریکی اے آئی کمپنیوں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے جدید ماڈلز کی مدد سے اپنے مقامی اے آئی سسٹمز تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ بات 80 سے زائد چینی تحقیقی مقالوں اور پیٹنٹس کے جائزے میں سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ دستاویزات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ چین کے فوجی اور سکیورٹی ادارے جدید امریکی اے آئی ماڈلز سے حاصل ہونے والے نتائج کو اپنے دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

اس طریقے سے وہ ایسے چھوٹے اور مخصوص اے آئی ماڈلز تیار کرنا چاہتے ہیں جو مقامی طور پر چل سکیں اور جنہیں تیار کرنے کے لیے بہت زیادہ کمپیوٹنگ طاقت کی ضرورت نہ ہو۔

رائٹرز کے مطابق اس مقصد کے لیے ”ماڈل ڈسٹلیشن“ نامی ایک تکنیک استعمال کی جا رہی ہے۔ اس طریقے میں ایک طاقتور اے آئی ماڈل کے جوابات یا نتائج کی مدد سے ایک نسبتاً چھوٹا اور مخصوص ماڈل تیار کیا جاتا ہے، تاکہ وہ کم کمپیوٹنگ وسائل کے ساتھ مخصوص کام انجام دے سکے۔

یہ طریقہ کار ٹیکنالوجی کی دنیا میں عام طور پر استعمال ہوتا ہے، تاہم موجودہ تنازع اس بات پر ہے کہ اگر کسی دوسرے ادارے کے ماڈل سے بغیر اجازت معلومات یا صلاحیتیں حاصل کی جائیں تو اس پر قانونی اور اخلاقی اعتراضات سامنے آتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن میں قائم جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن نے 60 سے زائد چینی تحقیقی مقالوں کا تجزیہ کیا، جنہیں بعد میں خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی جانچا۔ اس جائزے سے معلوم ہوا کہ پیپلز لبریشن آرمی اور دیگر فوجی اداروں سے وابستہ محققین ماڈل ڈسٹلیشن کو بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔

ان مقالوں سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ چینی دفاعی ادارے امریکی اے آئی ماڈلز کو تکنیکی رہنمائی کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں تاکہ وہ اس شعبے میں امریکا سے موجود فرق کو کم کر سکیں۔

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن سے وابستہ محقق سنی چیونگ کے مطابق چینی فوجی سائنس دان مغربی اے آئی ماڈلز کے صرف جوابات ہی نہیں بلکہ ان کے سوچنے اور نتائج تک پہنچنے کے طریقہ کار کو بھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اسے نگرانی، سائبر جنگ اور فوجی فیصلوں جیسے شعبوں میں استعمال کیا جا سکے۔

رائٹرز نے اپنی تحقیق میں مزید دو درجن ایسے کیسز کی بھی نشاندہی کی جن کا تعلق فوجی اداروں سے تھا۔ ان میں ایک تحقیق گزشتہ سال بیجنگ میں پی ایل اے یونٹ 96941 کی جانب سے شائع کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ اوپن اے آئی کے جی پی ٹی 3.5 ماڈل کو حساس فوجی سافٹ ویئر کوڈ کا خلاصہ تیار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ بعد ازاں انہی خلاصوں کی بنیاد پر ایک مقامی اے آئی ماڈل کو تربیت دی گئی تاکہ وہ مکمل طور پر چینی فوجی نیٹ ورک کے اندر کام کر سکے۔

رپورٹ کے مطابق چین میں ماڈل ڈسٹلیشن کا استعمال صرف فوجی مقاصد تک محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا کی نگرانی اور مواد کی درجہ بندی جیسے شعبوں میں بھی کیا جا رہا ہے۔ نارتھ یونیورسٹی آف چائنا کے محققین نے اینتھروپک کے کلاڈ 3 ہائیکو ماڈل سے مصنوعی تربیتی ڈیٹا تیار کیا، جسے بعد میں سوشل میڈیا مواد کی درجہ بندی کے لیے استعمال کیا گیا۔

اینتھروپک نے اپنے مؤقف میں کہا کہ وہ چین یا بیجنگ کے زیر کنٹرول اداروں کو کلاڈ ماڈل تک تجارتی رسائی فراہم نہیں کرتی اور پالیسی کی خلاف ورزیوں کا پتہ لگانے کے لیے نگرانی کا نظام بھی موجود ہے۔ کمپنی نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ڈسٹلیشن کے ذریعے تیار کیے گئے ماڈلز میں اصل ماڈل کے حفاظتی اقدامات مکمل طور پر برقرار نہیں رہتے، جس سے حساس صلاحیتیں غیر متوقع طور پر منتقل ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 2024 میں چین کی نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی کے ایک تحقیقی مقالے میں ماڈل ڈسٹلیشن کے ذریعے ایک تصویری تجزیاتی نظام کو اتنا چھوٹا بنایا گیا کہ اسے بغیر پائلٹ طیاروں پر نصب کیا جا سکے۔ اس سے ڈرونز حقیقی وقت میں ویڈیو کا تجزیہ، راستے کی نشاندہی اور ہدف کے تعین جیسے کام انجام دے سکتے ہیں، حتیٰ کہ اگر مواصلاتی رابطہ منقطع بھی ہو جائے۔

اسی طرح چین کی اکیڈمی آف ملٹری سائنسز کی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہ ماڈل ڈسٹلیشن کے ذریعے ہدف کی شناخت کرنے والا نظام ڈرونز، بحری جہازوں اور بغیر عملے والی آبدوزوں پر آزمائشی مشقوں کے دوران استعمال کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے جدید چپس اور دیگر اہم ٹیکنالوجیز کی برآمد پر پابندیوں کے ذریعے چین کی جدید اے آئی صلاحیتوں کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے باوجود چین مقامی سطح پر ایسے ہلکے اور کم وسائل استعمال کرنے والے اے آئی ماڈلز کی تیاری پر زور دے رہا ہے جو ڈرونز، سیٹلائٹس اور دیگر محدود کمپیوٹنگ طاقت رکھنے والے آلات پر چل سکیں۔

دوسری جانب امریکی حکام کا الزام ہے کہ بعض چینی ادارے امریکی اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں حاصل کرنے کے لیے ڈسٹلیشن کا استعمال کر رہے ہیں، جس سے برآمدی پابندیاں غیر مؤثر ہو سکتی ہیں اور دانشورانہ املاک کے حقوق بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

چین ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ امریکا مصنوعی ذہانت کے میدان میں اپنی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ چینی حکام کا یہ بھی مؤقف ہے کہ امریکی کمپنیاں خود بھی ماضی میں ملتے جلتے طریقے استعمال کرتی رہی ہیں۔

چین کی اے آئی کمپنی مون شاٹ نے بھی حال ہی میں ان الزامات کی تردید کی تھی کہ اس کا ’کیمی کے 3‘ ماڈل ڈسٹلیشن کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ اس کی کامیابی اس کی اپنی تحقیق اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔

ماہرین کے مطابق ماڈل ڈسٹلیشن مفید ضرور ہے لیکن اس کی اپنی حدود بھی ہیں۔ اس طریقے سے تیار ہونے والے ماڈلز اصل طاقتور اے آئی سسٹمز کی تمام صلاحیتوں کو مکمل طور پر نقل نہیں کر سکتے بلکہ صرف منتخب خصوصیات ہی منتقل ہوتی ہیں۔

اے آئی ڈیٹا کمپنی سیپین کے شریک بانی ٹریور کوورکو کے مطابق ڈسٹلیشن کے ذریعے تیار کیے گئے ماڈلز اپنے اصل یا بڑے ماڈلز جتنی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کے بقول اس طریقے کا مقصد جدید اے آئی نظام سے مکمل خودمختاری حاصل کرنا نہیں بلکہ اس کی چند مخصوص صلاحیتوں کو کم لاگت والے اور مقامی طور پر چلنے والے نظام میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔