صرف 30 سیکنڈ میں دل کی بیماریوں کا پتا لگانے والا 'ٹوائلٹ'
جرمن میڈیکل ٹیکنالوجی کمپنی ہیمبرگر میڈیکل نے ایک ایسا اسمارٹ ٹوائلٹ سیٹ تیار کیا ہے جو دل کی دھڑکن کی عام خرابی ایٹریئل فبریلیشن کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق اس ڈیوائس کی کارکردگی کلینک میں کیے جانے والے روایتی ای سی جی ٹیسٹ کے قریب بتائی گئی ہے۔
نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایٹریئل فبریلیشن دل کی دھڑکن کی ایک عام خرابی ہے، جس میں دل بہت تیز، بہت آہستہ یا بے ترتیب انداز میں دھڑک سکتا ہے۔ اگر اس بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو یہ فالج اور دیگر سنگین طبی مسائل کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
کمپنی کی جانب سے تیار کیے گئے ’ہارو ای کے جی سیٹ‘ کو عام ٹوائلٹ سیٹ کی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے، لیکن اس کے اندر ایسے ای سی جی سینسر نصب ہیں جو اسپتالوں میں استعمال ہونے والے سینسرز سے ملتے جلتے ہیں۔ جب کوئی شخص اس پر تقریباً 30 سیکنڈ تک بیٹھتا ہے تو یہ دل کی برقی سرگرمی ریکارڈ کرتا ہے۔
ریکارڈ کیا گیا ڈیٹا ایک اسمارٹ فون ایپ پر بھیجا جاتا ہے، جہاں اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ دل کی دھڑکن میں ممکنہ بے ترتیبی یا دیگر علامات کا پتہ لگایا جا سکے۔

ہیمبرگر ہارٹ اسٹڈی میں محققین نے اس اسمارٹ ٹوائلٹ سیٹ کے 6 لیڈ ای سی جی سسٹم کا موازنہ روایتی 12 لیڈ میڈیکل ای سی جی سے کیا۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق دونوں طریقوں کے درمیان کافی حد تک مطابقت دیکھی گئی، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی دل کی دھڑکن کی خرابی کی نشاندہی میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایٹریئل فبریلیشن بروقت تشخیص نہ ہو تو بعض اوقات فالج اس بیماری کی پہلی علامت بن سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق ہر سات میں سے ایک فالج کا تعلق اسی بیماری سے ہوتا ہے، اور ایسے فالج عموماً زیادہ شدید ہوتے ہیں کیونکہ خون کا لوتھڑا دل سے بن کر دماغ تک پہنچتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ آزمائش میں شامل افراد کو اس ڈیوائس کے استعمال کے لیے کسی خاص تربیت یا ہدایات کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ انہیں صرف تقریباً 30 سیکنڈ تک ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھنا تھا، جبکہ ایپ خود بخود ڈیٹا ریکارڈ کرکے اس کا تجزیہ کرتی رہی۔
محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ صحت سے متعلق مختصر پیمائش دن میں کئی مرتبہ روزمرہ کے معمولات کے دوران کی جا سکتی ہے۔ چونکہ ٹوائلٹ کا استعمال روزانہ کی زندگی کا حصہ ہے، اس لیے صارف کو الگ سے کوئی ڈیوائس پہننے یا یاد دہانی کی ضرورت نہیں پڑتی، جبکہ ایک ہی جگہ پر کیے گئے یہ ٹیسٹ صحت کے اہم اعداد و شمار باقاعدگی سے جمع کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن نیوز وائر سے گفتگو کرتے ہوئے دل کی دھڑکن کے امراض کی ماہر اور داخلی و قلبی طب کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر پاری ڈومینک نے کہا کہ اگر ایٹریئل فبریلیشن کے مریضوں میں بروقت مداخلت کی جائے تو علاج کے نتائج نمایاں طور پر بہتر ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق حالیہ مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ اگر بیماری کی تشخیص کے ایک سال کے اندر مریض کے دل کی معمول کی دھڑکن برقرار رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی جائے تو اس کے بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ایسے مریض بھی ہوتے ہیں جن کے دل میں پہلے ہی ساختی یا برقی تبدیلیاں آ چکی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ایٹریئل فبریلیشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، اور ایسے افراد کے لیے اس نوعیت کی اسمارٹ ڈیوائسز مستقبل میں مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔
















