نظام میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں: خواجہ آصف کا محسن نقوی کے بیان پر ردِ عمل

نظام میں بنیادی تبدیلی مقصود ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ اور وفاقی کابینہ جیسے آئینی فورمز کو استعمال کیا جانا چاہیے: وزیرِ دفاع
شائع 01 اگست 2026 11:34pm

وزیر دفاع خواجہ آصف نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے موجودہ نظام سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر ان کے خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتے ہیں، تاہم اگر نظام میں بنیادی تبدیلی مقصود ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ اور وفاقی کابینہ جیسے آئینی فورمز کو استعمال کیا جانا چاہیے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ محسن نقوی نے سسٹم کی کسمپرسی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بقول، وہ بطور سیاسی کارکن یہ شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ ملک کے نظام کا ارتقائی عمل کئی دہائیوں سے گروہی اور ذاتی مفادات کے تابع رہا ہے اور اسے ان مفادات سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اگر نظام کو مضبوط کرنا اور بنیادی تبدیلی لانا مقصود ہے تو اس کا مناسب فورم پارلیمنٹ ہے، جس کے محسن نقوی خود بھی رکن ہیں، جب کہ اس معاملے پر وفاقی کابینہ میں بھی بحث کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اسی طریقہ کار سے ادارے مضبوط ہوں گے اور تبدیلی بھی آئینی عمل کے ذریعے آگے بڑھے گی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ محسن نقوی کابینہ کے نہایت معتبر رکن ہیں، تاہم ان کے مطابق پارلیمنٹ اور کابینہ جیسے متعلقہ آئینی فورمز کے بجائے تاجر برادری کے اجلاس میں اس نوعیت کی بات کرنا اتنا مؤثر نہیں جتنا متعلقہ آئینی فورمز پر اسے زیرِ بحث لانا ہوتا۔

وزیر دفاع نے اپنے بیان میں یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ محسن نقوی گزشتہ ساڑھے تین برس سے نظام کے انتہائی بااختیار عہدوں پر فائز ہیں، اس لیے اگر وہ چاہتے تو اس عرصے کے دوران بھی نظام میں اصلاحات کی سمت پیش رفت کر سکتے تھے۔ انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ چلیں، دیر آید درست آید۔

خواجہ آصف نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی گزشتہ روز کی پریس بریفنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 13 نکات میں سے ایک نکتے پر عمل درآمد جو ہماری افواج کے ذمہ تھا اس پہ عمل درآمد اور تکمیل جانوں کی قربانیوں سے ہو رہا ہے، جب کہ باقی 12 نکات وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہیں، جن پر ان کے بقول اب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ اگر واقعی نظام میں تبدیلی لانا مقصود ہے تو اس کا آغاز نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد سے ہونا چاہیے۔ ان کے بقول، محسن نقوی سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں، کیونکہ صرف تاجر برادری ہی نہیں بل کہ پوری قوم اس عمل میں ان کے ساتھ ہوگی۔

واضح رہے کہ دو روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی تھی۔ اسلام آباد میں اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ کہ پاکستان کا موجودہ نظام مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے، ”کوئی مانے یا نہ مانے، سسٹم گر چکا ہے“ اور موجودہ ڈھانچے کے ساتھ آئندہ برسوں میں بھی یہی مسائل برقرار رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے انتظامی ری سیٹ، نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کی جانب جانا ناگزیر ہے۔

محسن نقوی کے بیان پر جمعے کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف سے پریس بریفنگ کے دوران سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح کیا تھا کہ وزیر داخلہ کی گفتگو ان کی ذاتی رائے ہے، اس لیے وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

ترجمان پاک فوج نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے۔ ان کے بقول، پاک فوج کا وژن واضح ہے کہ اچھی حکمرانی کے بغیر نہ ملک میں امن و استحکام آ سکتا ہے اور نہ ہی عوام کو درپیش مسائل کا مؤثر حل ممکن ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے مزید کہا کہ اگر انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو وہ ہونا چاہیے، جب کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی گورننس میں بہتری لائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئین و قانون کے مطابق کام کرتی ہے اور عوام کی رائے کا احترام کرتی ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے موجودہ نظام، گڈ گورننس اور نئے صوبوں سے متعلق بیان کے بعد یہ معاملہ سیاسی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس بیان پر ڈی جی آئی ایس پی آر، پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور اب وزیر دفاع خواجہ آصف بھی اپنے مؤقف کا اظہار کر چکے ہیں۔